Official Website

جدوجہد کے دنوں میں کئی راتیں بھوکے پیٹ درخت کے نیچے گزاریں، جاوید اختر

81

بھارتی مصنف، اسکرین رائٹر اور گیت نگار جاوید اختر آج اپنی 76ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جاوید کا تعلق شاعروں کے اس خاندان سے ہے جنہیں لکھنے کا فن اپنے آباؤ اجداد سے ملا، اپنے کیریئر کے آغاز میں جاوید اختر کو انڈسٹری میں جگہ بنانے کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑی لیکن آج وہ انڈسٹری میں ایک الگ مقام رکھتے ہیں، آج ان کی سالگرہ کے خاص موقع پر جانتے ہیں ان کی زندگی سے جڑی کچھ خاص باتیں۔

جاوید اختر 17 جنوری 1945 کو گوالیار میں پیدا ہوئے، جاوید کے والد جان نثار اختر بالی وڈ فلموں کے نغمہ نگار اور اردو شاعر تھے اور والدہ صفیہ اردو مصنفہ تھیں، جاوید کے دادا مضطر خیر آبادی بھی اپنے وقت کے مشہور شاعر تھے۔

جاوید کا اصل نام جادو تھا

جان نثار اختر نے اپنے بیٹے کا نام جادو رکھا، انہوں نے یہ نام اپنی شاعری لمحہ لمحہ جادو کا فسانہ ہوگا سے رکھا تھا، کچھ عرصے بعد اس کا نام جادوئی طور پر بدل کر جاوید رکھ دیا گیا کیونکہ یہ دونوں نام ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے۔

جاوید اختر نے اپنی والدہ کو کم عمری میں کھو دیا، والدہ کے انتقال کے بعد جاوید کے والد نے دوسری شادی کر لی، جب جاوید اخترکے لیے اپنے والد اور والدہ کے ساتھ رہنا مشکل ہو گیا تو انہوں نے اپنے نانا نانی کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور لکھنؤ چلے گئے، لکھنؤ سے اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جاوید نے سیفیا کالج بھوپال سے تعلیم حاصل کی۔

مصنف بننے کے لیے خوابوں کے شہر کا سفر

جاویداختر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مصنف بننے کا خواب لے کر ممبئی پہنچ گئے، یہاں ان کے خواب بڑے تھے لیکن نہ رہنے کے لیے گھر تھا نہ کھانا، جد و جہد کے دنوں میں جاوید اخترنے کئی راتیں بغیر کھائے پیڑکے نیچے سو کر گزاریں، بعد میں انہیں جوگیشوری میں کمال امروہی کے اسٹوڈیو میں سونے کی جگہ مل گئی۔

جاوید اختر کی ملاقات سلیم سے سرحدی لٹیرے کے سیٹ پر ہوئی، اس فلم میں سلیم اداکار تھے اور جاوید پروڈکشن کا کام کر رہے تھے، جلد ہی دونوں، جو لکھنے میں دلچسپی رکھتے تھے، دوست بن گئے، دونوں کو لکھنے کا شوق تھا لیکن اس نئی جوڑی کو کوئی کام دینے کو تیار نہیں تھے۔

اس وقت ایس ایم ساگر کو نوجوان لکھاریوں کی ضرورت تھی، جاویداختر اس وقت اردو میں لکھتے تھے اور بعد میں اس کا ہندی میں ترجمہ کرتے، کام پسند آنے پر ایس ایم ساگر نے ان دونوں کو کام دے دیا۔

آہستہ آہستہ سلیم اور جاوید کی جوڑی انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے لگی لیکن اس وقت اسکرپٹ رائٹرز کو کریڈٹ نہیں ملا، راجیش کھنہ پہلے اسٹار تھے جنہوں نے اس جوڑی پر بھروسہ کیا اور انہیں بڑا بریک دیا، راجیش کھنہ نے انہیں اپنی فلم ہاتھی میرے ساتھی میں اسکرین پلے رائٹر کا کام دیا، یہ فلم ہٹ رہی اور اس کے ساتھ ہی مصنفین کو کریڈٹ بھی دیا گیا۔

ہاتھی میرے ساتھی کے ساتھ ساتھ اس جوڑی نے انداز، اختیار، سیتا اور گیتا، یادوں کی بارات، زنجیر، ہاتھ صاف، دیوار، شعلے، چاچا بھتیجا، ڈان، تریش، دوستانہ، کرانتی، زمانہ، مسٹر جیسی کئی ہٹ فلمیں دیں، اس جوڑی کی لکھی گئی 24 فلموں میں سے 20 ہٹ رہیں۔

1971 سے 1982 تک ایک ساتھ کام کرنے کے بعد نظریاتی اختلافات کی وجہ سے یہ جوڑی ٹوٹ گئی، دونوں نے الگ الگ فلمیں لکھنا شروع کر دیں، جاوید کو ان کے گانوں، اسکرین پلے اور تحریر کے لیے 14 فلم فیئر ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے، انہیں بہترین کام پر 5 بار نیشنل ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

جاوید اختر کو 1999 میں پدم شری اور 2007 میں پدم بھوشن سے نوازا جا چکا ہے، سال 2020 میں جاوید کو سیکولرازم اور آزادانہ سوچ کو فروغ دینے پر رچرڈ ڈاکنز ایوارڈ ملا ہے، جاوید کو ان کے شعری مجموعے لاوا کے لیے 2013 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا، جو ادب کا دوسرا بہترین اعزاز ہے۔

جاوید اختر نے 1972 میں ہنی ایرانی سے شادی کی، جس سے ان کے دو بچے فرحان اختر اور زویا اختر ہیں، جاوید اختر لکھنے کے سلسلے میں اکثر اردو کے مشہور ادیب کیفی اعظمی صاحب کے پاس جایا کرتے تھے جہاں ان کی ملاقات کیفی اعظمی کی بیٹی شبانہ اعظمی سےہوئی اور کچھ ہی دنوں میں دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو گئی اور وہ 1984 میں رشتہ ازداوج میں منسلک ہوگئے۔