Official Website

مغربی ممالک کو اسرائیلی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا

134

نیو زرچر زیتنگ(Neue Zürcher Zeitung) سوئٹزر لینڈ کا ممتاز اخبار ہے۔1جنوری 2022ء کو اخبار نے پاکستان کے ایٹمی منصوبے سے منسلک ایک خصوصی رپورٹ شائع کی۔

یہ رپورٹ امریکا، مغربی جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی حکومتوں کی خفیہ (کلاسیفائیڈ)فائلوں کی بنیاد پہ مرتب کی گئی جنھیں حال ہی میں افشا(ڈی کلاسیفائیڈ)کیا گیا ہے۔ان فائلوں نے انکشاف کیاہے کہ 1979ء سے لے کر 1982ء تک اسرائیلی حکمران اپنی خفیہ ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے حتی کہ موساد کے ایجنٹوں نے مغربی جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں ان کمپنیوں کے دفاتر پہ بم حملے کیے جو ایٹم بم بنانے میں استعمال ہونے والا ضروری سازوسامان پاکستان کو مہیا کر رہی تھیں۔موساد کے ایجنٹوں نے یورپی کمپنیوں کے مالکان اور افسروںکو دہمکیاں بھی دیں۔

کوئی ردعمل نہیں آیا
یہ دہماکہ خیز رپورٹ منظرعام پہ آئے کئی دن گذر چکے مگر جرمنی اور سوئٹرزلینڈ کی حکومتوں نے کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔اگر یہ انکشاف ہوتا کہ ان یورپی ممالک میں پاکستان یا ایران کی خفیہ ایجنسیوں نے بم دہماکے کیے ہیں تو وہاں شور مچ جاتا۔یورپی میڈیا طول طویل رپورٹیں چھاپ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا کہ پاکستان یا ایران دہشت گرد ملک ہیں جنھیں کسی بین الاقوامی قانون کی پروا نہیں۔مگر اسرائیل اور اسکی خفیہ ایجنسی کی دہشتگردی ثابت ہو جانے کے بعد بھی مغربی میڈیا اور حکومتی ایوانوں میں مکمل خاموشی طاری رہی۔

یہ رویّہ مغربی طاقتوں کی منافقت عیاں کرتا ہے جو ویسے انسانی حقوق اور عدل وانصاف کی چیمپین بنی رہتی ہیں۔موساد ایک بدمعاش اور بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ہے جس کے ذریعے اسرائیلی حکومت دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات انجام دیتی ہے۔چونکہ اسرائیل کو عالمی سپرپاور، امریکا کی سرپرستی حاصل ہے لہٰذا کوئی اس کے سامنے آنے کی جرات نہیں کرتا۔اب تو پیسے کی خیرہ کن چمک نے عرب حکمرانوں کو بھی اسرائیل کا دوست بنا دیا ہے۔

ایک زبردست کرشمہ
اسرائیلی حکمران ایک اسلامی مملکت، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔1976ء میں جب پاکستانی ایٹمی منصوبے کا آغاز ہوا تو جلد ہی امریکا اور اسرائیل کوششیں کرنے لگے کہ یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکے۔موساد اور امریکی خفیہ ایجنسی کے گروپ میں بعد ازاں بھارتی اینٹلی جنس ایجنسی، را بھی شامل ہو گئی۔اس تریمورتی نے بہت زور مارا ، بہت سازشیں کیں کہ پاکستانی ایٹم بم نہ بن سکے مگر ناکامی ہی ان کا مقدر بنی۔پاکستان آخرکار عالم اسلام کی پہلی اور اکلوتی ایٹمی طاقت بن گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا ایک زبردست کرشمہ ہے جو اللہ پاک کے فضل ،مختلف عوامل اور انفرادی ومجموعی بہترین کارکردگی کے باعث ظہور پذیر ہوا ۔ورنہ مئی 1974ء میں بھارتی ایٹمی دہماکے کے بعد مغربی ممالک نے اس سازوسامان کی فروخت پر کڑی پابندیاں عائد کر دی تھیں جو ایٹم بم بنانے میں استعمال ہو سکتا تھا۔اسی باعث پاکستان کے لیے ایٹم بم بنانا بہت کٹھن اور دشوار گذار مرحلہ بن گیا۔مگر ازلی دشمن کا بھرپور مقابلہ کرنا بھی نہایت ضروری تھا۔اسی لیے پاکستانیوں نے کمر کس لی۔رب تعالی بھی ان پہ مہربان رہے اور یوں پاکستانیوں نے ناممکن کو ممکن بنا کر پوری دنیا کو حیران و متحّیر کر دیا۔

تین عوامل
ایٹم بم بنانے کی تمنا کو عمل میں ڈھالنے کے لیے تین عوامل نے اہم کردار ادا کیا:

اول یہ کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تیل کی دولت سے مالامال عرب ملکوں کے حکمرانوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ پاکستان نے ایٹم بم بنا لیا تو اس سے اُمتِ مسلمہ کو فائدہ پہنچے گا۔چناں چہ عرب ممالک نے پاکستانی ایٹمی منصوبے کو کافی سرمایہ فراہم کیا۔پاکستان مالی طور پہ اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ تنہا مہنگے ایٹمی منصوبے کوپایہ تکمیل تک پہنچا پاتا۔

دوم یورینیم افزودہ کر کے ایٹم بم بنانے کے کرتا دھرتا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان یورپی ممالک میں وسیع پیمانے پہ تعلقات رکھتے تھے۔پھر انھیں سیکڑوں یورپی کمپنیوں کی معلومات بھی ازبر تھیں جو پاکستانی ایٹمی منصوبے کو مطلوبہ سامان فراہم کر سکتی تھیں۔

سوم یہ کہ اس زمانے میں یورپی ممالک خصوصاً مغربی جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اوربیلجئم کے عوام وخواص سمجھتے تھے کہ بھارت نے ایٹمی دہماکہ کرکے دغا بازی کی ہے۔ان کے نزدیک امریکا و کینیڈا نے بھارت کو ایٹمی ری ایکٹر اس لیے فراہم کیے تھے کہ وہ یورینیم کے ذریعے بجلی بنا سکے۔مگر بھارتیوں نے بڑی عیّاری و مکاری سے ایٹمی ری ایکٹروں میں استعمال شدہ یورینیم کو پلوٹونیم کی شکل دے اس سے ایٹم بم بنا لیا۔چناں چہ بااثر جرمن و سوئس سمجھتے تھے کہ پاکستانی بھی اب ایٹم بم بنانے کی سعی کرنے میں حق بجانب ہیں۔

پاکستانی ایٹم بم بنانے کی تاریخ میں وہ فیصلہ بھی اہم ہے جس کے ذریعے طے ہوا کہ ایٹم بم بنانے کی خاطر سامان پرزوں کی صورت خریدا جائے۔صورت حال دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ دانشمندانہ تھا۔وزیراعظم بھٹو نے 15فروری 1975ء کو ’’پروجیکٹ 306‘‘(بعد ازاں کہوٹہ پروجیکٹ)شروع کرنے کی منظوری دی تھی۔ تب اس کے سربراہ سلطان بشیر الدین تھے۔اس منصوبے کے تحت سینٹری فیوج مشینوں پہ مشتمل ایک پلانٹ تیا ر ہونا تھا۔ ان مشینوں کی مدد سے ایٹم بم بنانے کے لیے درکاریورینیم (uranium-235)مطلوبہ مقدار میں حاصل کرنا مقصود تھا۔اس پلانٹ کا ڈیزائن ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے فراہم کیا۔وہ ہالینڈ کے اُس یورینیم انرچمنٹ پلانٹ سے کچھ حد تک ماخوذ تھا جہاں ڈاکٹر صاحب کام کر رہے تھے۔

محض ڈیزائن سے کچھ نہیں ہوتا
بھارتی اور مغربی ماہرین اسی لیے الزام لگاتے ہیں کہ پاکستانی ایٹم بم چوری شدہ ڈیزائن کے ذریعے بنایا گیا۔مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ممتاز پاکستانی ایٹمی سائنس داں، جاوید ارشد مرزا کا دوسرا رخ بیان کرتے ہیں:’’ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کچھ ڈیزائن کاپی کیے،بعض ڈرائنگوں کی نقول تیار کیں اور نوٹس بھی لیے۔مگر مشینوں کو بنانا، انھیں چلانے کے قابل بنانا اور پورے عمل کو کامیابی سے انجام دینا…یہ سبھی کام پاکستانی ماہرین نے کرنے تھے۔محض ڈیزائن سے پورا پلانٹ بنا کر اور پھراسے چلانا انتہائی مشکل ہے۔ یورینیم 235 کو افزودہ کرنا نہایت کٹھن کام ہے اور اس کے تمام مرحلے پاکستانی ماہرین کو ازخود کو سیکھنے پڑے۔‘‘

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپریل 1976ء سے کہوٹہ پروجیکٹ کا انتظام سنبھالا۔گو اس کے لیے درکار آلات کی خریداری یورپی کمپنیوں سے شروع ہو چکی تھی۔اس وقت یورپ میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے نمائندے، شفیق احمد بٹ تھے۔وہ بیلجئم میں پاکستانی سفارت خانے میں تعینات تھے۔انھوں نے پاکستانی ایٹم بم کی تشکیل کے لیے پرزے خریدنے میں سرگرمی سے حصّہ لیا۔وہ بہت ہوشیار، پکے محب وطن اور بیدار مغز تھے۔ماہرین لکھتے ہیں کہ یورپی کمپنیوں کے بارے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی زبردست معلومات اور شفیق احمد بٹ کی سرگرمی وسمجھداری کی بدولت ہی پاکستانی ایٹمی منصوبے کے لیے ایسا سامان دستیاب ہوا جو عام حالات میں حاصل کرنا تقریباً ناممکن تھا۔

ہمیشہ ایک قدم آگے
1981ء میں امریکی صحافیوں، سٹیو ویزمان اور ہربرٹ کروزنے کی مرتب کردہ کتاب’’دی اسلامک بم‘‘شائع ہوئی۔مرتب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جرمن استاد، پروفیسر مارٹن باربرز نے امریکی صحافیوں کو بتایا:’’وہ ایک یارباش اور دوست نواز نوجوان تھے۔ان کے کئی ممالک میں بہت دوست تھے۔ وہ ایٹمی سازوسامان بنانے والی سبھی یورپی کمپنیوں کو بھی جانتے تھے۔وجہ یہ کہ انھیں کئی زبانوں پہ عبور حاصل تھا۔پھر وہ اپنی زندہ دلی، سادگی اور انسان دوستی کے سبب دوست بہت جلد بنا لیتے۔اس باعث اپنے تعلقات کے بل بوتے پر عبدالقدیر ایسا سامان خریدنے میں کامیاب ہوئے جو دیگر پاکستانی کبھی خرید نہ پاتے۔‘‘

2009ء میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستانی ایٹم بم بنانے کی خاطر پرزہ جات خریدنے کے نیٹ ورک کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا:’’میں پندرہ سال یورپ میں مقیم رہا۔اس دوران ہر جگہ گھومتا پھرا۔مجھے بخوبی علم تھا کہ کون سی کمپنی کیا پرزے بناتی ہے۔ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ میں نے اپنے یورپی پلانٹ سے کمپنیوں کی فہرست چوری کر لی۔یہ بکواس ہے۔میں نے انجیرئینگ میں ڈاکٹریٹ کی تھی۔ہالینڈ میں ایک اچھّے عہدے پہ فائز تھا۔ تمام سپلائرز کے نام وپتے میرے پاس تھے۔

لہذا میں پاکستان آیا تو یورپی کمپنیوں سے پرزے خریدنے میں مشکل پیش نہیں آئی۔تاہم یورپی حکومتوں نے پرزوں کی فروخت پہ پابندی لگا دی۔ہم نے پھر یہ اقدام کیا کہ دوست ممالک مثلاً کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں کمپنیاں بنا کر ان کی وساطت سے پرزے خریدنے لگے۔ پاکستانی ایٹمی منصوبے کے دشمن ہمیں مات نہ دے سکے کیونکہ ہم ہمیشہ ان سے ایک قدم آگے رہے۔‘‘

درست فیصلہ
دلچسپ بات یہ کہ آغاز میں مکمل مشینیں خریدنے کا ہی پروگرام تھا۔جب انھیں خریدتے ہوئے دشواری پیش آئی تو پرزے خریدنے کا فیصلہ ہوا۔جب کسی مشین کے پرزے آ جاتے تو پاکستانی ماہرین مل جل کر انھیں جوڑ لیتے۔یوں تنکا تنکا جمع کر کے پاکستانی ایٹم بم بنانے پہ کام شروع ہوا۔اسی لیے اس کی تکمیل میں کئی سال لگ گئے۔یورینیم افزودہ کر کے ایٹم بم بنانے کا فیصلہ حالات نے درست ثابت کر دکھایا۔

1980ء میں سویت یونین ہمارے سر پہ آن بیٹھا۔ اِدھر ازلی دشمن، بھارت پہلے ہی موجود تھا۔خوش قسمتی سے تب تک یہ خبر مشہور ہو چکی تھی کہ پاکستان ایٹم بم بنا رہا ہے۔اسی لیے سویت یونین اور بھارت کو علی الاعلان پاکستان پہ حملہ کرنے کی جُرات نہیں ہوئی۔اگر ایٹم بم کا ہوّا نہ ہوتا تو دونوں قوتیں مل کر پاکستان پہ چڑھائی کر سکتی تھیں۔

تب تک کینیڈا کے تعاون سے کراچی میں ایٹم ری ایکٹر لگ چکا تھا مگر وہاں استعمال شدہ یورینیم سے پلوٹونیم بم بنانا نامکن تھا۔وجہ یہ کہ ری ایکٹر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی زیرنگرانی تھا۔یہ تو کئی سال بعد چین سے ایٹمی ری ایکٹر ملے تو وہاں استعمال شدہ یورینیم سے پاکستان پلوٹونیم بم بنانے کے قابل ہو سکا۔خیال ہے کہ 1998ء میں پاکستان نے پلوٹونیم بم کا بھی تجربہ کیا تھا۔

حسد کی جلوہ آرائی
وطن عزیز کی ایک اور خوش قسمتی یہ ہے کہ یہاں ٹیکسٹائل کے کئی کارخانے واقع ہیں۔اور یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہونے والے کئی پرزہ جات ٹیکسٹائل مشینری میں بھی لگتے ہیں۔چناں چہ یورپی کمپنیوں کو کہوٹہ پلانٹ کے پرزوں کا آرڈر دیتے ہوئے انھیں بتایا جاتا کہ ان کو ٹیکسٹائل کارخانے میں استعمال کرنا مقصود ہے۔بیشتر پرزہ جات مغربی جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی ایک درجن سے زائد کمپنیوں سے خریدے گئے۔اگر ان دو یورپی ملکوں سے مطلوبہ پرزے نہ ملتے تو کمپنیاں انھیں بیرون ممالک سے خرید کر پاکستانیوں کو فراہم کر دیتیں۔اسی قسم کے ایک سودے میں اونچ نیچ سے دنیا والے پاکستانی ایٹمی منصوبے سے آگاہ ہوئے۔

ہوا یہ کہ 1977ء میں پاکستان نے مغربی جرمنی کی ایک فرم ،ٹیم انڈسٹریز سے ہائی فریکوئنسی انورٹر خریدے۔یہ آلہ یورینیم افزودہ کرنے والی مشین، سینٹری فیوج کو مسلسل خاص سطح پہ بجلی فراہم کرتا ہے۔لہذا یہ یورینیم پلانٹ کا ایک اہم پرزہ تھا۔یہ پرزہ برطانوی کمپنی، ایمرسن الیکٹرک بناتی تھی۔ٹیم انڈسٹریز کے مالک، ارنسٹ پفل نے برطانوی کمپنی سے رجوع کیا تاکہ مطلوبہ پرزے خرید کر پاکستان کو فراہم کر سکے۔

ایمرسن کمپنی نے 40انورٹر فراہم کرنے تھے۔اگست 1978ء تک تمام انورٹر دو اقساط میں پاکستان کو مل گئے۔ مگر چھان بین سے پاکستانی انجیئنروں پہ انکشاف ہوا کہ انورٹروں میں نقائص موجود ہیں۔ بعض پاکستانی ماہرین کا خیال تھا کہ ایمرسن نے دانستہ خراب انورٹر پاکستان کو فروخت کیے۔اسے یقین ہو گا کہ پاکستانی یہ نقائص دریافت نہیں کر سکتے،یوں کمپنی اپنے ناقص مال سے نجات پا لے گی۔مگر پاکستانی ماہرین نے نقائص ڈھونڈ کر برطانوی کمپنی کو حیران کر دیا۔اسے احساس ہوا کہ پاکستانی انجئنیر بھی تجربے کار اور سمجھدار ہیں۔ایمرسن کو کہا گیا کہ وہ انورٹروں میں خرابیاں دور کر کے واپس بھجوائے۔

کہوٹہ یورینیم انرچمنٹ پلانٹ کو اب بھی ڈیرھ سو انورٹروں کی ضرورت تھی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو محسوس ہوا کہ ایمرسن کمپنی چال بازی کر رہی ہے۔لہٰذا انھوں نے نیا آرڈر ایک دوسری برطانوی کمپنی، وئیرگیٹ کو دیا۔کمپنی کا مالک، پیٹر گرفن ڈاکٹر صاحب کا قدیمی دوست تھا۔انھیں یقین تھا کہ یہ کمپنی معیاری انورٹر فراہم کرے گی۔مگر اس معاہدے سے ارنسٹ پفل کو حسد محسوس ہوا۔وہ تائو میں آ گیا۔

ارنسٹ پفل کو یہ یقین بھی ہو چلا تھا کہ انورٹر یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہوں گے۔چناں چہ اس نے فرینک ایلون سے رابطہ کیا جو برطانوی پارلیمنٹ کا رکن اور ایٹمی اسلحے کے شدید مخالفوں میں سے تھا۔ارنسٹ نے اسے بتایا کہ پاکستان یورینیم ایٹم بم بنا رہا ہے اور یہ کہ برطانوی کمپنی، وئیرگیٹ اسے اہم متعلقہ پرزے فراہم کر رہی ہے۔فرینک ایلون نے معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھا کر برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو انورٹر فراہم نہ کیے جائیں۔یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستانی ایٹمی منصوبہ مغربی میڈیا میں نمایاں ہوا ورنہ وہ پہلے کامیابی سے خفیہ انداز میں چل رہا تھا۔ایک ناراض جرمن کے حسد نے اسے افشا کر دیا۔

موساد سرگرم ہوئی
اب تمام مسلم دشمن حکمرانوں اور ان کی خفیہ ایجنسیوں کے کان کھڑے ہو گئے۔وہ پاکستانی ایٹمی منصوبے کی سن گن لینے لگیں۔ان کی تحقیق سے افشا ہوا کہ پاکستان یورینیم سے ایٹم بم بنانے کے قابل ہو چکا۔اب بھارت اور اسرائیل کے حکمران خاص طور پہ چوکنا ہو گئے۔ایک اسلامی ملک (پاکستان)ایٹم بم بنا لیتا تو ایشیا و افریقا میں ان کی چودھراہٹ کو سنگین خطرات لاحق ہو جاتے۔اسی لیے پاکستانی ایٹم بم بننے سے روکنے کے واسطے دشمن ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں متحرک ہو گئیں۔موساد کا یورپ میں وسیع نیٹ ورک موجود تھا۔اس لیے وہی زیادہ سرگرم ہوئی۔

مئی 1979ء میں اسرائیلی وزیراعظم، مناخم بیگن نے برطانوی وزیراعظم، مارگریٹ تھیچر کو خط لکھا کہ پاکستان کے ایٹم بم بنانے پر اسرائیل کو شدید تشویش ہے۔ لہذا اسے اس اقدام سے باز رکھنے کی کوششیں کرنی چاہیں۔انہی دنوں کی بات ہے، پیٹر گرفن جرمن شہر،بون کسی کام سے گیا۔وہاں وہ ایک بار میں بیٹھا تھا کہ ایک اجنبی اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔اجنبی نے پیٹر سے کہا:’’تم ہی پیٹر گرفن ہو نہ؟دیکھو بھئی ،تم جو کر رہے ہو ،ہمیں بالکل پسند نہیں ۔اپنا کام روک دو۔‘‘کہنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستانی ایٹمی منصوبے کو پرزہ جات فراہم نہ کرو۔پیٹر نے یہ دہمکی بہت سنجیدگی سے لی۔اب وہ تمام کاروباری معاہدے ریکارڈ کرنے لگا۔یہ ریکارڈ بینک میں رکھ دئیے جاتے۔اس نے اہل خانہ سے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو سارا ریکارڈ حکومت کے حوالے کر دینا۔

حسب توقع برطانوی حکومت نے انورٹر کا سودا روک دیا۔اب کہوٹہ پلانٹ کے لیے انورٹر کہاں سے آتے؟ باہمی مشورے کے بعد فیصلہ ہوا کہ انورٹر پرزوں کی شکل میں خریدے جائیں۔چناں چہ پاکستانی مغربی ممالک میں پھیل گئے اور ہائی فریکوئنسی انورٹر کے پرزے مثلاً کیپیسیٹر، ریزیسٹر وغیرہ خریدنے لگے۔پاکستانی ماہرین نے پھر انھیں جوڑ کر مطالبہ انورٹر تیار کر لیے۔یوں ایک اہم رکاوٹ دور ہو گئی۔

بم دہماکے
مغربی ممالک میں اسرائیلی ایجنٹ پاکستانیوں کی نقل وحرکت پہ نظر رکھے ہوئے تھے۔انھیں محسوس ہو گیا کہ پاکستانی تیزی سے ایٹم بم بنانے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔لہذا اب موساد کھل کر ان یورپی کمپنیوں کے خلاف کارروائیاں کرنے لگی جو پاکستانی ایٹم بم بنانے میں پاکستانیوں کی مدد کر رہی تھیں۔20فروری 1981ء کو کورا انجئنیرئنگ کے مینجنگ ڈائرکٹر، ایڈورڈ گزمان کے گھر بم دہماکا ہوا۔یہ سوئس کمپنی کہوٹہ پلانٹ کو اہم پرزے فراہم کر رہی تھی۔کمپنی کے افسروں کو فون پر بھی دہمکیاں دی گئیں کہ پاکستان کو پرزے دئیے جاتے رہے تو ان کی خیر نہیں۔

مغربی جرمنی کی کمپنی، ویلش ملر بھی پاکستانی ایٹمی منصوبے سے منسلک تھی۔18مئی 1981ء کو مارک دورف شہر میں واقع اس کے دفتر میں بم دہماکا ہوا۔کمپنی کے مالک کو بھی فون پر جان سے مارنے کی دہمکی دی گئی۔مغربی جرمنی کے شہر، ارلینگن میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا دوست، ہینز میبس رہتا تھا۔یہ پاکستانی ایٹمی پروگرام کا حامی تھا۔اس نے جرمن کمپنیوں سے پاکستان کے معاہدے کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔6نومبر 1981کو اس کے گھر لیٹر بم دہماکا ہوا۔اس کا کتا مارا گیا۔خوش قسمتی سے ہینز گھر میں موجود نہ تھا۔

مشن میں کامیابی
ان بم دہماکوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کہ موساد صرف جرمن اور سوئس کمپنیوںکو خوفزدہ کرنا چاہتی تھی۔وہ اپنے مشن میں کامیاب رہی کہ مغربی جرمنی اور سوئٹزر لینڈ کی تقریباً سبھی کمپنیوں نے پاکستانی ایٹمی منصوبے سے تعلق ختم کر دیا۔کئی کمپنیوں کے مالکوں اور افسروں کو فون پر دہمکیاں دی گئیں کہ وہ پاکستان کو کسی قسم کا سامان فروخت نہ کریں۔گویا اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے مغربی جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں دہشت گردی کا بازار گرم کر دیا۔مگر دونوں ممالک کی حکومتیں اسرائیل کو معطون نہیں کر سکیں۔

دراصل اسرائیلی حکومت کے دبائو پر اس زمانے میں امریکا مسلسل مغربی جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو کہہ رہا تھا کہ وہ اپنی کمپنیوںکو ’’حساس پرزہ جات اور آلات‘‘پاکستانیوں کو فروخت نہ کریں۔امریکی حکومت کے ادارے، دی نیشنل سیکورٹی آرچیو نے حال ہی میں وہ خطوط ڈی کلاسیفائی کیے ہیں جو1980ء اور 1981ء میں مغربی جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں موجود سفیروں نے اپنی حکومت کو لکھے تھے۔ان خطوط سے افشا ہوتا ہے کہ امریکی حکومت دونوں یورپی ممالک کے حکمرانوں سے سخت ناراض تھی۔وجہ یہی کہ انھوں نے اپنی ان کمپنیوں کو روکنے کے لیے خاص اقدامات نہیں کیے جو پاکستانی ایٹم بم کی تیاری میں سرگرمی سے شریک تھیں۔

کہوٹہ پہ حملے کا منصوبہ
جون 1984ء میں اسرائیلی طیاروں نے بمباری کر کے بغداد، عراق کے قریب واقع ایٹمی ری ایکٹر تباہ کر دیا۔ اس کی مدد سے صدام حسین ایٹم بم بنانا چاہتا تھا۔ مغربی وپاکستانی ماہرین لکھتے ہیں کہ اس کے بعد بھارت اور اسرائیل کہوٹہ پلانٹ پہ فضائی حملے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔چناں چہ ایک بھارتی کمباٹ(combat)کالج میں حملے کی فزیبلٹی رپورٹ تیار ہوئی۔اس رپورٹ کی بنیاد پہ بھارتی طیاروں نے حملے کی مشقیں کیں۔اسی دوران اسرائیل نے اپنا منصوبہ پیش کر دیا۔ اس کی رو سے اسرائیلی طیاروں نے ہمالیائی پہاڑوں کے راستے کہوٹہ پہ حملہ کرنا تھا۔

گھر کے بھیدی کی گواہی
بھارت کرند(Bharat Karnad)مشہور بھارتی دانشور ہے۔نئی دہلی میں واقع’’سینٹر فار پالیسی ریسرچ‘‘میں پروفیسر ایمرطیس ہے۔14نومبر 2016ء کو اس نے اپنی ویب سائیٹ پر شائع ایک مضمون (Solidifying India-Israel relations with miltech quid pro quo; 1982 Indo-Israeli plans for Kahuta strike)میں درج بالا منصوبے کو حقیقی قرار دیا۔وہ لکھتا ہے:’’1983ء میں اسرائیل کا دورہ کرتے ہوئے میری ملاقات اسرائیلی فوج کے میجر جنرل ہارون یریف(Aharon Yaariv) سے ہوئی۔اسی جرنیل کی کمان میں اسرائیل نے جنگ 1956ء میں مصری علاقے، صحرائے سینا پہ قبضہ کیا تھا۔اسرائیلی آرمی چیف، موشے دایان کا دست راست تھا۔ اسی بااثر اسرائیلی آرمی جرنیل نے دوران گفتگو انکشاف کیا کہ اسرائیل اور بھارت مل کر کہوٹہ پلانٹ تباہ کرنا چاہتے تھے۔‘‘

میجر جنرل ہارون یریف کے مطابق پلان یہ تھا:’’سب سے پہلے اسرائیلی ٹرانسپورٹ طیارے حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ لے کر بھارتی فضائیہ کی جام پور(گجرات)بیس پہنچتے۔پھر چھ اسرائیلی ایف 16 اور چھ ہی ایف 15 طیارے جام پور پہنچتے۔وہاں اسرائیلی پائلٹ چند دن آرام کرتے۔پھر وہ اودھم پور(جموں وکشمیر)بیس کے لیے روانہ ہو جاتے۔راستے میں شمالی بھارت کی کسی بیس سے ایندھن بھروا لیتے۔ اودھم پور سے وہ ہمالیہ کے پہاڑوں کا رخ کرتے۔ مطلوبہ مقام تک پہنچنے کے بعد وہ پاکستان میں داخل ہو کر چند منٹ میں کہوٹہ جا پہنچتے۔

وہاں ایف سولہ طیاروں نے اپنے پہ لدے خصوصی بم پاکستانی یورینیم انرچمنٹ پلانٹ پر گرانے تھے۔یہ بم اندرون زمین بنی تنصیبات بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔جبکہ ایف پندرہ پاک فضائیہ کے طیارے روکنے میں استعمال ہوتے۔اسرائیلی اور بھارتی منصوبہ سازوں کو یقین تھا کہ کہوٹہ میں نصب طیارہ شکن توپیں ایف سولہ اور ایف پندرہ جیسے جدید ترین لڑاکا و تیز رفتار جہازوں کو نہیں گرا پائیں گی۔ویسے بھی یہ آپریشن ایک دو منٹ میں مکمل ہو جانا تھا۔ اسرائیلی جہاز بم گرا کر وہاں سے ترنت فرار ہو جاتے۔

میجر جنرل ہارون یریف نے بھارت کرندکو بتایا کہ بھارتی وزیراعظم، اندرا گاندھی کو یہ منصوبہ بہت پسند آیا تھا۔مگر کسی طرح اس منصوبے کی بھنک امریکی صدر ریگن کو مل گئی۔وہ پریشان ہو گئے۔وجہ یہ کہ تب امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں اپنے اکلوتے حریف، سوویت یونین کا بھرپور مقابلہ کر رہا تھا۔اگر کہوٹہ پلانٹ پہ حملہ ہو جاتا تو سوویت یونین کے خلاف لڑائی متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔اس لیے صدر ریگن نے اسرائیلی حکومت پر زبردست دبائو ڈالا کہ وہ کہوٹہ پہ حملہ کرنے سے باز رہے۔ویسے بھی یہ حملہ پاکستان اور بھارت کے مابین چوتھی جنگ شروع کرا دیتا۔کہوٹہ پلانٹ پہ حملے کے بعد پاکستان نے اپنے ازلی دشمن کو منہ توڑ جواب دینا ہی تھا۔

نئے منصوبے
بھارت کرندکی رو سے 1984ء میں ائرکموڈور جسمیت سنگھ بھارتی فضائیہ میں ڈائرکٹر آپریشنز(آفینسیو)مقررہوا۔اس نے پھر کہوٹہ انرچمنٹ پلانٹ پہ فضائی حملے کا منصوبہ بنایا۔تاہم نئے وزیراعظم، راجیو گاندھی نے اسے نامنظور کر ڈالا۔آئرلینڈ کے ممتاز اخبار’’آئرش ٹائمز‘‘نے3 جون 1998ء کی اشاعت میں ایک مضمون(Israelis dismiss claims of plans to blow up Pakistani nuclear sites)شائع کیا۔ اس میں درج ہے کہ جولائی 1985ء میں اسرائیل نے دوبارہ راجیو گاندھی کو یہ پلان دیا کہ کہوٹہ پلانٹ پہ فضائی حملہ کر دیا جائے۔ اس بار اسرائیل نے بھارتی وزیراعظم کو کہوٹہ پلانٹ کی تصاویر بھی دکھائیں جو سیٹلائٹوں سے لی گئی تھیں۔یہ تصاویر اسے امریکی اسٹیبلشمنٹ میں گھسے موساد کے ایجنٹ، جوناتھن پولارڈ نے فراہم کی تھیں۔تاہم راجیو گاندھی نے پھر یہ منصوبہ مسترد کر دیا۔

1998ء میں پاکستان کے ایٹمی دہماکوں سے قبل پاکستانی حدود میں اسرائیل کا ایک ایف سولہ طیارہ دیکھا گیا۔اس خبر نے حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔لگتا تھا کہ اسرائیلی و بھارتی مل کر پاکستانی ایٹمی تنصیبات پہ حملہ کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان نے فوراً اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، کوفی عنان اور امریکی حکومت سے رابطہ کیا۔پاکستان کی زبردست سفارتی سرگرمی کی وجہ سے اسرائیل کو اعلان کرنا پڑا کہ وہ پاکستانی ایٹمی تنصیبات پہ حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل اور بھارت ،دونوں کو آنکھوں میں پاکستانی ایٹمی پروگرام کانٹا بن کر چبھتا ہے اور وہ کسی نہ کسی طرح اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔