Official Website

عمر امین گنڈا پور کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے: فواد چودھری

34

اسلام آباد:  وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر علی امین گنڈاپور کے بھائی اور ڈیرہ اسماعیل خان سے سٹی میئر کے امیدوار عمر امین گنڈاپور نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نااہل قرار دیئے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چودھری کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے پی ٹی آئی کے امیدوار عمر امین گنڈاپور کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریںگے، واضح طور پر مولانا فضل الرحمن کو شکست کا سامنا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید لکھا کہ ایسے میں تحریک انصاف کے امیدوار کو نااہل قرار دے دیا گیا اور وہ بھی اس گراؤنڈ پر کہ ان کا بھائی انتخابی مہم کیوں چلا رہا ہے،ایسے فیصلے الیکشن کمیشن کو متنازعہ بناتے ہیں

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کے بھائی اور بلدیاتی امیدوار عمر امین گنڈاپور کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نااہل قرار دے دیا۔

الیکشن کمیشن کے 3 رکنی بینچ نے بلدیاتی انتخابات کے ضابطہ اخلاق کی خلاف وزری سے متعلق کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔

فیصلے میں عمر امین گنڈاپور کو انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے جبکہ علی امین گنڈاپور کو عوامی اجتماعات سے خطاب سے روک دیا گیا ہے۔

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو ضلع بدر کر رکھا تھا، تاہم اب انہیں ڈیرہ اسمٰعیل خان (ڈی آئی خان) میں مشروط داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

فیصلے کے مطابق علی امین گنڈاپور کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، انہیں صرف گھریلو تقریبات میں شرکت کی اجازت ہوگی۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 28 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں علی امین گنڈا پور کی جانب سے بار بار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا تھا اور انہیں اپنی پوزیشن کی وضاحت کے لیے یکم فروری کو طلب کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ای سی پی نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کےرہنما اور وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران ضلع بدر کرنے کا حکم دیا تھا۔

خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوران وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کے خلاف الیکشن کمیشن کا یہ پہلا اقدام نہیں تھا بلکہ پہلے مرحلے کے دوران دسمبر میں الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر علی امین گنڈاپور پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔