Official Website

گرین سگنل کے انتظار میں نہیں ورنہ گھر بیٹھتے: مولانا فضل الرحمان

40

ڈیرہ اسماعیل خان:  امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) اور حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اب معاملہ نتائج سمیٹنے کی طرف جا رہا ہے۔ ہم گرین سگنل کے انتظار میں نہیں ورنہ گھر بیٹھتے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نااہل، نالائق اور ناجائز حکومت نہیں کر سکتے۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے۔ عمران خان قوم کا مجرم عوام کے سامنے آکر تو دکھائے۔ ہماری جدو جہد کا ٹارگٹ اس نظام کی تبدیلی ہے۔ استعفوں اور عدم اعتماد کو مشاورت سے کیا جائے گا۔ عوام کو ووٹ کی امانت واپس دلانے، ایک جائز حکومت کے قیام کیلئے جدوجہد رائیگاں نہیں گئی۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدان ایک دوسرے سے ملتے رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر اور آصف علی زرداری کی ملاقات دوسیاستدانوں کی ملاقات ہے۔ رہنماؤں میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے مجھے فون پر آگاہ کیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے روپے سے ہمارے خطے کے تمام ممالک سے کم ہے، جب ہماری حکومت ختم ہو رہی تھی اس وقت ترقی کا تخمینہ 5 فیصد تھا مگر اب زیرو ہے، سوویت یونین معاشی طور پر گرا تباہ ہو گیا، 14 ملین مارچ کئے، تین سال سے جدوجہد کر رہے ہیں، ہمارے اجتماعات میں ایک طبقہ نہیں بلکہ ہر کوئی کھڑا تھا۔

امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ پنجاب کا گورنر برطانیہ کا شہری ہے وہ وہاں کہہ رہا کہ آئی ایم ایف نے سب کچھ لکھوا لیا ہے، ایف بی آر آئی ایم ایف کے حکم پر 11 سو 55 نئے ٹیکس لگا رہا ہے، ہر چار ماہ بعد نیا بجٹ لایا جا رہا ہے، اس وقت پاکستان کے منصوبے ایمنسٹی سکیم میں دئیے جا رہے ہیں، ایک ایک فیصلے کو سمندر میں پھینکیں گے، کس طرح پولیس والا بچہ بیچ رہا ہے، پارلیمنٹ کے سامنے بچے بیچے جا رہے ہیں، ہم نے علاقے کی ترقی کو ووٹ کے لئے بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کو حکمرانوں نے ڈبو دیا ہے،ملکوں میں جب ایسے حالات ہوتے ہیں تو عوام بغاوت پر اتر اتی ہے، ناہل کہتاہے امریکا کا نیا صدرمجھے فون نہیں کرتا ہے ، حکمرانوں نے چین کی 70سالہ دوستی کو ڈبو دیا ہے، پاکستان کو کالونی بنا دیا گیا، نااہلوں کو لاکر بین الاقوامی ایجنڈے کی تقویت ملی ہے، ہم نے سنجيدہ سیاست کی ہے، میرے والد اور میری سیاست سب ڈیرے والوں کے سامنے ہیں، جعلی نماٸندے ڈیرہ کو ڈوبنا چاہتے ہیں۔