Official Website

متحدہ اور مسلم لیگ ق کا ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی اختیار کرنے پر اتفاق

20

لاہور: حکومت کی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور مسلم لیگ ق نے اپوزیشن کا ایجںڈا واضح ہونے تک دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کرنے پر اتفاق کرلیا۔

 ایم کیو ایم کی جانب سے سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ روز ایم کیو ایم نے چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے وفد سے ملاقات کی تھی جب کہ آج ایم کیو ایم کے وفد نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی سے اُن کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنونیئر عامر خان نے کہا کہ چوہدری شجاعت کی مزاج پرسی کے لیے آئے تھے، سندھ میں بلدیاتی قانون بنایا گیا جس پر اپوزیشن اور حکومتی اتحادی متفق تھے کہ یہ نامناسب ہے، اس پر آل پارٹیز کانفرنس رکھی جس میں مختلف پارٹیوں نے یکجہتی کا اظہار کیا، چیف منسٹر کے دفتر کے باہر احتجاج پر تشدد ہوا جس میں ایک کارکن جان بحق ہوا، وفاق میں ہم دونوں جماعتیں ساتھ ہیں جب ہمیں کوئی شکوے ہوتے ہیں تو مل کر ساتھ چلتے ہیں۔

عامر خان نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہیں، آئندہ کا فیصلہ ق لیگ اور اتحادیوں سے مشاورت کے ساتھ کریں گے، سیاست میں کوئی سہولت کاری نہیں ہوتی، سب کو ایک دوسرے سے مل کر چلنا چاہیے، ایم کیو ایم نے کسی کو باہر نہیں بھیجا یہ ریاست اور حکومت کا کام ہے۔

چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دوست ہمارے پاس آئے، ہم سب حکومت کے اتحادی ہیں اور جو مسائل ہیں انہیں آپس میں مشورہ کرکے پھر حکومت سے بات ہوتی ہے کوشش ہوتی ہے کہ جو عوامی مشکلات اور تکالیف ہیں ان پر آواز پہنچتی رہے، آج کی ملاقات اور بیٹھک بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔

چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ بلدیاتی قانون کا معاملہ چل رہا ہے، جس پر ہم اپوزیشن کو ساتھ ملا کر چل رہے ہیں ہم ساٹھ فیصد چیزوں پر متفق ہوچکے ہیں تاہم یہ بات طے ہے کہ کوئی پارٹی برسر اقتدار آئے تو اسے تبدیل نہیں کرسکتے۔

چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ اپوزیشن عدم اعتماد کا جواب خود دے گی، ابھی باورچی خانے میں سامان اکٹھا ہورہا ہے کوئی چیز سامنے تو آنے دیں، جب کوئی چیز پک کر سامنے آئے گی پھر بتائیں گے اور فیصلہ کریں گے۔

پرویز الہی نے کہا کہ ابھی حکومت کے دو سال رہتے ہیں حکومت گرانے یا عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، مل کر عوام کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، زرداری صاحب نے کہا کہ شجاعت حسین کی خبر گیری کے لیے آنا چاہتے ہیں اور ان کا اصل مقصد یہی تھا، ابھی اپوزیشن کی حکمت عملی کھل کر سامنے آئے پھر اتحادی دوبارہ مشاورت کریں گے۔

ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

دریں اثنا ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق کی قیادت کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے جس کے مطابق دونوں حکومتی اتحادیوں نے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے ٹھوس کارڈ سامنے آنے پر اتحادی لائحہ عمل اختیار کریں گے ساتھ ہی مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم نے سیاسی صورت حال میں کوئی بھی فیصلہ مشاورت سے کرنے پر اتفاق کیا اور طے کیا کہ دونوں جماعتیں آئندہ بھی مشاورت جاری رکھیں گی۔