Official Website

زیر سماعت مقدمات میں ملزمان کو بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جاسکتا، لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

44

لاہور ہائیکورٹ نے زیر سماعت مقدمات کے ملزمان کی بیرون ملک روانگی کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ ملزمان کو باہر جانے سے نہیں روکا جاسکتا، عدالت نے پاسپورٹ مینول کا پیرا 51 کالعدم قرار دیتے ہوئے 

ڈی جی ایف آئی اے کو تمام امیگریشن پوائنٹس پر ہدایات دینے کا حکم بھی دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایک ہی نوعیت کی دو درخواستوں پر 21 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں عدالت نے پاسپورٹ اینڈ ویزا مینول 2006ء کا پیرا 51 کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیر سماعت مقدمات کے ملزمان کو بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جاسکتا۔

عدالت نے درخواست گزار دو شہریوں کو بلیک لسٹ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا اور عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو تمام امیگریشن پوائنٹس پر ہدایات دینے کا حکم دیا۔ عدالتی فیصلے میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی 2004ء میں وطن واپسی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریاستی آئین مکمل بنیادی حقوق کی گارنٹی نہیں دیتا بلکہ قانون کی عمل داری سے مشروط کرتا ہے، ایسے بنیادی حقوق کا کوئی مقصد نہیں جس سے ریاست خود خطرے میں آجائے، اگر ریاست خطرے میں ہے تو اس سے جڑی چیزیں بھی خطرے میں ہیں، سفر کا بنیادی حق گلوبل طور پر جانا جاتا ہے جو کہ ایک بنیادی انسانی حقوق ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسل ڈکلیئر یشن آف ہیومن رائٹ 1948ء کے آرٹیکل 13 کے تحت کسی بھی شخص کو کسی بھی ریاست میں آنے جانے کی اجازت ہے، آئین کا آرٹیکل 15 بھی فریڈم آف موومنٹ کی بات کرتا ہے، آرٹیکل15 کے تحت ہر شہری کو قوانین میں لگائی پابندی کے اندر گھومنے کی آزادی ہے، آرٹیکل 15 واضح کرتا ہے کہ لگائی گئی پابندیاں نہ صرف معقول ہوں بلکہ عوامی مفاد کے لیے بھی ہوں۔

عدالت نے کہا کہ پاسپورٹ ایکٹ کے سیکشن 8 کے تحت پاسپورٹ وفاقی حکومت کی پراپرٹی ہے جو شہری سے واپس لینے یا منسوخ کرنے کا حق رکھتی ہے، سب سیکشن 2 کے تحت ایسا کرنے سے پہلے وفاقی حکومت شہری کو حکم جاری کرنے سے دو ہفتے پہلے نوٹس جاری کرنے کی پابند ہے اسی طرح سب سیکشن 3 کے تحت اگر وفاقی حکومت کے پاس واضح شواہد موجود ہوں کہ متعلقہ شحص کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے جو ملک کے خلاف ہے تو شوکاز نوٹس بھی ضروری نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ کیسز میں وفاقی حکومت نے نہ ہی درخواست گزاروں سے پاسپورٹ واپس مانگا اور نہ ہی منسوخ کیا، درخواست گزار شان الہی اور سید انور شاہ نے بلیک لسٹ ہونے کے خلاف الگ الگ درخواستیں دائر کیں، ایف آئی اے نے شان الہی اور اس کے بھائی عرفان الٰہی پر شہری کو بیرون ملک بھجوانے کا فراڈ کرنے پر مقدمہ درج کیا۔

عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے نے بعد ازاں دونوں ملزمان کو مقدمے سے ڈسچارج کردیا، دونوں ملزمان کے خلاف مدعی نے اسپیشل سینٹرل کورٹ میں استغاثہ دائر کیا ، اس دوران ملزمان بیرون ملک جا چکے تھے، عدالت نے استغاثہ میں پیش نہ ہونے پر دونوں ملزمان کو اشتہاری قرار دیا تھا۔

فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے پاسپورٹ اینڈ ویزا مینول 2006ء کے پیرا 51 کے تحت ملزمان کو بلیک لسٹ کردیا، درخواست گزار عرفان الٰہی کچھ عرصے بعد پاکستان آیا اور قانون کا سامنا کیا اور خود کو کلئیر کرایا، درخواست گزار شان الہی تاحال قانون سے فرار ہے اور دبئی میں موجود ہے، درخواست گزار کے پاسپورٹ کی میعاد 2020ء میں ختم ہوئی اور بلیک لسٹ ہونے کے باعث ری نیو نہیں ہوسکا، دوسری درخواست میں انوار شاہ اور اس کی بیوی اوورسیز پاکستانی ہیں جو کہ سعودی عرب میں رہ رہے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ کچھ عرصے قبل درخواست گزار کی بیوی چھ ہفتوں کے وزٹ پر پاکستان آئی، واپسی پر بیوی کو ائیرپورٹ پر روک لیا گیا اور بتایا کہ اس کا شوہر ایک مقدمے میں اشتہاری اور بلیک لسٹ ہے، ایف آئی اے نے بیوی کو گرفتار کرلیا تاہم عدالت نے ضمانت دے دی، کچھ عرصے بعد درخواست گزار بھی پاکستان آیا اور مقدمے کا سامنا کیا اور عدالت سے ضمانت لی، درخواست گزار نے بلیک لسٹ ہونے کے خلاف درخواست کی، درخواست گزاروں کو پاسپورٹ اینڈ ویزہ مینول 2006 کے پیرا 51 کے تحت کارروائی کی گئی ، پاسپورٹ ایکٹ بلیک لسٹ کرنے کی کوئی شو موجود نہیں۔

عدالت کے مطابق سیکشن ،8 وفاقی حکومت کو صرف پاسپورٹ کینسل  یا ضبط کرنے کا اختیار دیتا ہے، بلیک لسٹ کرنا ایک بالکل الگ معاملہ ہے اور اس کا مفہوم بھی الگ ہے، وزارت داخلہ نے مینول پاسپورٹ اور ویزا پروسیجر ایشو کیا، سیکشن 13 وفاقی حکومت کو آفیشنل گزٹ کے ذریعے رولز بنانے کا اختیار دیتا ہے۔

فیصلے میں بتایا گیا کہ یہ طے شدہ ہے کہ حکومت کو محکموں اور دفاتر کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے نوٹی فکیشن جاری کرنے کا اختیار ہے، یہ بھی طے شدہ ہے ایسے نوٹی فکیشن اور ہدایت آئین سے متصادم نہیں ہونے چاہیے، پاسپورٹ رولز 1974ء بھی پاسپورٹ اینڈ ویزا مینول 2006ء کے پیرا 51 کے حوالے سے خاموش ہے۔ عدالت کے مطابق پیرا 51 غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بیان دیا کہ پیرا 51 کو کالعدم قرار دینے کے اثرات خوف ناک ہوں گے، عدالتوں نے کیسز کا فیصلہ قانون کے مطابق کرنا ہوتا ہے۔ ایف آئی اے نے بیان دیا کہ انہوں نے اسپیشل سینٹرل کورٹ کے کہنے پر بلیک لسٹ کیا، سینٹرل کورٹ نے واضح کیا کہ ایسا کوئی حکم جاری نہں کیا گیا۔

عدالت نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عوامی مفاد کے لیے انصاف کرنا ضروری ہے، ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں وفاقی حکومت ایسے ہی پاسپورٹ منسوخ، ضبط اور بلیک لسٹ نہیں کرسکتی، انتہائی اقدام سے پہلے ہر کیس کا مکمل جائزہ لینا چاہیے، درخواست گزار شاہ الہی کو بلیک لسٹ کرنے کوئی جواز نہیں تھا، درخواست گزار انور شاہ کے کیس کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ یہ عدالت کسی کو بیرون ملک سفر کرنے سے نہیں روک سکتی، دونوں درخواستیں منظور کرتے ہوئے بلیک لسٹ کرنے کا اقدام غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔