Official Website

مشرف کا کیس نیب کیلئے ٹیسٹ کیس ہے: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

62

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس قومی احتساب بیورو (نیب) کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔

نیب کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف اثاثوں کی انکوائری نہ کرنے پر چیئرمین نیب کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔

نیب کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب جمع کرایا گیا تاہم انکوائری میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔

نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف 15 مارچ 2018 کو انکوائری کی منظوری دی گئی، پرویزمشرف کی بیرون ملک پراپرٹیز اور اکاؤنٹس کی تفصیلات کے لیے ایم ایل اے لکھ دیے، متعلقہ اتھارٹیز کی جانب سے تاحال جواب کا انتظار ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی بیرون ملک 2 پراپرٹیز اور 2 فارن اکاؤنٹس کے بارے میں ایم ایل ایز کا جواب نہ ملنے پر یاد دھانی خطوط بھی بھجوائے گئے، انکوائری کے دوران پرویز مشرف اور اہلخانہ کے تمام اکاؤنٹس اور اثاثہ جات کا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو انکوائری میں شامل کرنے کے لیے سوالنامہ بھی بھجوایا، ایم ایل ایز کے جواب ملنے پر کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہو گا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ صرف منتخب نمائندوں کے احتساب کا تاثر زائل کرے، پرویز مشرف صرف آرمڈ فورسز سے نہیں بلکہ چیف ایگزیکٹو اور پبلک آفس ہولڈر بھی تھے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف سیاسی جماعت کے سربراہ اور سیاستدان ہیں، پرویز مشرف کا کیس نیب کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے، نیب عوام میں اپنا اعتماد بحال کرے۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کی 29 پراپرٹیزہیں، ایم ایل ایزکےجواب کاانتظارہے، ایک ماہ تک جواب ملنےکی توقع ہے۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کے ایک اکاؤنٹ میں 20 لاکھ ڈالر ہیں، ہم ثبوت بھی دے چکے ہیں، ایم ایل اے کا 40 سال جواب نہ آئے تو کیا یہ بیٹھے رہیں گے؟

وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے کہا کہ پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں خود اعتراف کیا کہ ڈالرز کے عوض شہریوں کو فروخت کیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ دستیاب ثبوت پر ریفرنس دائر کریں، ایم ایل اے کا جواب آنے کے بعد ضمنی ریفرنس بھی دائر کر سکتے ہیں۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے نیب حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تین سال ہو گئے ایم ایل اے لکھے ہوئے اور آپ 3 سال سے جواب کا انتظار کر رہے ہیں؟