Official Website

نور مقدم قتل کیس: مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا تحریری بیان ٹرائل کورٹ میں جمع

76

اسلام آباد:  نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے تحریری بیان ٹرائل کورٹ میں جمع کروا دیا۔

ملزم ظاہر جعفر نے اپنے بیان میں کہا کہ مجھے اور میرے والدین کو غلط طور پر کیس میں پھنسایا جا رہا ہے، کیونکہ واقعہ میرے گھر میں ہوا ہے، نور مقدم کے ساتھ لونگ ریلیشن شپ میں تھا، نور نے مجھے زبردستی امریکہ کی پرواز لینے سے منع کیا کیونکہ وہ میرے ساتھ امریکہ جانا چاہتی تھی، نور نے دوستوں کو فون کر کے ٹکٹ خریدنے کے لیے پیسے حاصل کیے۔

ظاہر جعفر نے کہا کہ ہم ائیرپورٹ کیلئے نکلے مگر نور نے ٹیکسی کو واپس گھر کی طرف مڑوا دیا، واپس گھر آئے تو نور کے ڈرگ دوست موجود تھے، نور مقدم نے میرے گھر میں دوستوں کو بھی ڈرگ پارٹی کیلئے بلایا، ہوش میں آیا تو خود کو باندھا ہوا پایا، پولیس نے آکر مجھے بچایا، تو پتا چلا کہ نور مقدم کو قتل کر دیا گیا ہے۔

ظاہر جعفر نے مزید کہا ہے کہ پولیس آنے سے پہلے شوکت مقدم اور ان کے رشتہ دار ہمارے گھر موجود تھے لیکن ان سے پوچھ گچھ نہیں ہوئی۔ پولیس کے تفتیشی افسر نے نور مقدم کے فون کی سی ڈی آر صرف 20 جولائی 2021 صبح پونے 11 بجے کی حاصل کی۔ اس سے یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ نور نے کس کو ڈرگ پارٹی میں مدعو کیا تھا۔