Official Website

20 وزارتوں نے 145ارب کا نقصان کیا، قائمہ کمیٹی خزانہ

47

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے 2 سو کمپنیوں کو20وزارتیں چلاتی ہیں اور مالی سال 2018-19 میں ان کمپنیوں نے 145 ارب روپے کا نقصان کیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے میں سرکاری کمپنیوں کی گورننس اور آپریشنز بل2021ء پر تفصیلی غور کیا گیا، بل کی منظوری موخر جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے دو سو کمپنیوں کو20وزارتیں چلاتی ہیں، مالی سال 2018-19 میں ان کمپنیوں نے 145 ارب روپے کا نقصان کیا۔

سب سے زیادہ نقصان ڈسکوز، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کرتی ہیں جبکہ زیادہ منافع او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کماتی ہیں، وزارت خزانہ 6 سال سے ان کمپنیوں کا ڈیٹا جمع کر رہی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی کے سربراہ فیض اللہ کاموکا کی زیرصدارت ہوا، رکن کمیٹی عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ سرکاری کمپنیوں کی اکثریت نقصان میں ہیں کیا ان کی نجکاری کی جائیگی۔

سید نوید قمر نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ہدایات پر یہ قانون لایا جا رہا ہے جس پر حکام وزارت خزانہ نے کہا کہ حکومت کا سینٹرل مانیٹرنگ کا نظام صرف کمپنیوں کی پرفارمنس پر چیک کریگا۔

سیکریٹری خزانہ نے کہاکہ وزارت خزانہ کا ان کمپنیوں کو چلانے میں کوئی کردار نہیں ہو گا، صرف پبلک فنانس کے باعث وزارت خزانہ اس عمل میں شامل ہوئی۔