Official Website

یہ انسان نما روبوٹ اب بلڈ پریشر بھی چیک کرسکتا ہے

38

کینیڈا: بہت جلد ہسپتالوں اور گھروں میں بھی انسان نما روبوٹ عام ہوں گے جو مریضوں کا بلڈ پریشر نوٹ کریں گے جس سے مریضوں کی درست خبرگیری میں مدد ملے گی۔

سائمن فریزر یونیورسٹی کے سائنسداں وو سو کم نے ایک انسان نما روبوٹ کو یہ تربیت فراہم کی ہے۔ یہ روبوٹ مریض کو ایک مرتبہ چھونے سے اس کا بلڈ پریشر درست انداز میں نوٹ کرکے بتاتا ہے۔ نیچر گروپ کے تحقیقی جریدے این پی جے میں شائع رپورٹ کے مطابق اس روبوٹ میں یہ صلاحیت فطرت میں پائی جانے والی جونکوں کو دیکھتے ہوئے پیدا کی گئی ہے۔

دوسال سے جاری کووڈ 19 کی وبا اور فاصلہ رکھنے کی وجہ سے اب بھی دنیا کے لوگ ایک دوسرے سے دور ہیں اور اس تناظر میں طبی روبوٹ ، ریموٹ ڈاکٹر اور آن لائن چیک اپ کے شعبوں میں تیزرفتار ترقی ہوئی ہے۔ اب بلڈ پریشر روبوٹ بھی اس ضمن میں ایک نئی اختراع ہے۔

جونک کی چپکنے کی خاصیت کی نقل کرتے ہوئے پہلے سائنسدانوں نے ایک سینسر بنایا جسے لیچ انسپائرڈ اوریگامی (ایل آئی او) کا نام دیا گیا ہے۔ اسے روبوٹ کی انگلیوں پر نصب کیا گیا ہے۔ ڈیزائن کے مطابق جیسے ہی روبوٹ اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کی انگلی ایل آئی او میں رکھتا ہے تو ہوا کھینچنے کی قوت سے سینسر انگلی سے چپک جاتے ہیں۔ پھر سینسر کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ پھیل اور سکڑ سکتا ہے۔

اب روبوٹ اپنا دوسرا ہاتھ مریض کے سینے پر رکھتا ہے اور وہاں کی ریڈینگ لیتا ہے۔ یعنی الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی ) اور فوٹوپلے تھسموگرام ( پی پی جی) ریڈنگ کو ایک ساتھ نوٹ کرتا ہے۔ اس طرح باری باری دونوں ہاتھوں سے ڈیٹا لے کر یہ بلڈ پریشر کی درست ریڈنگ دکھاتا ہے۔

لیکن پہلے یہ ڈیٹا روبوٹ کے میں موجود ایک الگورتھم میں جاتا ہے جہاں مریض کے سسٹولک اور ڈائی سسٹولک بلڈ پریشر کی درست اندازہ لگایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں روایتی بلڈ پریشر مشین کی طرح بازو پر پٹی لپیٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

اسی روبوٹ کو بنانے والی ٹیم نے پہلے ای سی جی کی مدد سے مریضوں کی نبض، درجہ حرارت اور سانس کی رفتار معلوم کرنے والے روبوٹ بھی بنائے تھے جو درست معلومات فراہم کررہے ہیں۔
پروفیسر وو سو کم کے مطابق اگلے مرحلے میں روبوٹ سینسر کو مزید بہتر بنا کر بہت سارے مریضوں پر آزمائش کی جائے گی تاکہ غلطی کے امکان کو کم سے کم کیا جاسکے۔

سائنسدانوں نے مطابق بلڈ پریشر کا مرض ’خاموش قاتل‘ کہلاتا ہے اور تنہا رہنے والے افراد کا فشارِ خون معلوم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے جس سے انسانی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے۔