Official Website

منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

31

لاہور: شوگر کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ  کے مقدمے میں شہباز شریف اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی،عدالت نے ملزمان کی ضمانت میں 28 فروری تک توسیع کردی۔

لاہور کی اسپیشل سینٹرل عدالت کے جج اعجاز الاحسن اعوان نے شہبازشریف اور دیگرملزمان کے خلاف 16 ارب سے زائد منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی۔

شہباز شریف کے وکلا نے چالان کی کاپیاں مدہم ہونے کی درخواست دی۔ شہبازشریف کے وکلا کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے جو چالان کی کاپیاں فراہم کیں وہ پڑھی نہیں جاسکتیں۔ بینک حکام کے 164 بیانات کی کاپیاں بھی فراہم نہیں کیں۔ عدالت نے ایف آئی اے کو چالان کی صاف کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایک مرتبہ تسلی سے بتا دیں کہ کون کون سے کاپیاں صاف نہیں، یہ ایک ایک کر کے اعتراضات اٹھائیں گے۔

عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کےلیے شہباز شریف اور دیگر ملزمان کو 28 فروری کو پیش ہونے کی ہدایت کی۔

سماعت کے بعد شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج میری وجہ سے ملتوی کیا گیا کیونکہ آج فرد جرم کی تاریخ تھی۔

شہباز شریف نے بتایا کہ پہلے ایف آئی اے نے درخواست دی کہ سماعت کی تاریخ 17 یا 19 کر دی جائے، تاکہ میں 18 کو بہانہ نہ بناؤں کہ آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہے اس لیے پیش نہیں ہوسکتا لیکن عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست خارج کردی تو حکومت نے قومی اسمبلی اجلاس کی تاریخ ہی تبدیل کردی، حکومت کا ارادہ تھا کہ آج چارج فریم کروائیں گے، لیکن اللہ مالک ہے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف 16 ارب سے زائد منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کررکھا ہے، ایف آئی اے نے 2021ء میں منی لانڈرنگ کا چالان عدالت میں جمع کروایا تھا۔