Official Website

اینزائم تھراپی کی بدولت اب جسمانی اعضا ہر کسی کو لگائے جاسکیں گے

45

اوٹاوا: صحتمند شخص اگرکسی مریض کو کوئی عضوعطیہ کرتا ہے تو کئی پیچیدگیاں پیش آتی ہیں جن میں بلڈ گروپ مختلف ہونے کی بنا پرایک شخص کا عطیہ دوسرے کو نہیں دیا جاسکتا۔ اب اینزائم تھراپی کی بدولت پیچیدہ اعضا بھی غیریکساں بلڈ گروپ والے افراد میں لگائے جاسکیں گے۔

اب کینیڈا میں مختلف اداروں کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کئی برس کی محنت کے بعد اینزائم ٹریٹمنٹ وضع کی ہے جس کے تحت ایک عضو کو عالمی او اقسام کے بلڈ گروپ والے مریضوں کو بحفاظت لگایا جاسکے گا۔

ہم جانتے ہیں کہ خون کے سرخ خلیات کی سطح پر اینٹی جِن ہی بلڈ گروپ کا تعین کرتے ہیں۔ اے اینٹی جن کا مطلب اے گروپ ہوتا ہے۔ بی اینٹی جن کی بدولت خون کا بی گروپ بنتا ہے۔ اے بی بلڈ گروپ میں دونوں گروپ ہوتے ہیں اور او میں کوئی اے اور او اینٹی جن غائب ہوتے ہیں۔

اب خون کی منتقلی ہو یا پھر پیوندکاری ہو اگر خون کی قسم یکساں نہ ہو تو معاملہ پیچیدہ ہوسکتا ہے ۔ اس طرح مختلف گروپ والا عضو لگایا جائے تو بدن سب سےپہلے اس کا دشمن بن کر اسے مسترد کردیتا ہے۔

اسے حل کرنے کے لیے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اینزائم استعمال کرکے عطیہ کردہ عضو سے اینٹی جن مٹانے کا کام کیا ہے۔ اس طرح عضو کی کیفیت یونیورسل او گروپ ہوجاتی ہے۔ تھراپی کے لیے دو اینزائم انسانی آنتوں سے لیے گئے ہیں کے نام ایف پی گیل این اے سی ڈی ایسی ٹائلیز اورایف پی گیلکٹوزامائی ڈیز ہے۔

سائنسدانوں نے دو پھیپھڑوں کو  ’ایکس وائیو لنگ پرفیوژن‘ (ای وی ایل پی) سسٹم کے اندررکھا۔ اس سسٹم میں پھیپھڑوں کو پیوندکاری سے قبل خون اور ضروری اجزا میں زندہ رکھا جاتا ہے۔ اب اس میں دونوں اینزائم بھی ڈالے گئے۔

تجربے میں ٹائپ اے ڈونر پھیپھڑا لیا گیا جو پہلے سے ہی خراب تھا اور ڈاکٹر اسے علاج کے لیے مسترد کرچکے تھے۔ ای وی ایل پی سسٹم میں جب دو اینزائم ڈالے گئے تو کچھ دیر بعد پورے عضو سے اے اینٹی جِن (بلڈ گروپ) اور اس کے اثرات 97 فیصد تک غائب ہوگئے۔ اب اسے مخالف بلڈ گروپ والے خون میں رکھا گیا تو پھیپھڑے کو رد کرنے والے اجزا سامنے نہیں آئے۔

اس تجربے سے معلوم ہوا کہ اینزائم تھراپی کی وجہ سے جلد یا بدیر مختلف بلڈ گروپ والے افراد کے اعضا دوسروں کو لگانے میں مدد مل سکے گی۔