Official Website

مادری زبانیں ۔۔۔ روایات ،ثقافت اور تہذیب و تمدن کی امین

96

مادری زبانیں ۔۔۔ روایات ،ثقافت اور تہذیب و تمدن کی امین
مادری زبانیں بطور ذریعہ اظہار و ابلاغ فرد کی شخصیت کی تشکیل و تکمیل میں موثر کردار ادا کرتی ہیں
مادری زبان میں ہی بچے کو ایک نسل اپنا ماضی منتقل کر رہی ہوتی ہے تو ایک نسل اپنے ثقافتی مستقبل کی تعمیر کرتی ہے
حکومتی سطح پر علاقائی زبانوں کی سرپرستی کی جا ئے،ورنہ بہت ساری علاقائی زبانیں ناپید ہو نے کا خدشہ موجود ہے
مادری زبانوں کا عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی تحریر

دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اسکے اورنظام تعلیم کے درمیان ایک آسان فہم رابطے کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں ۔مادری زبان میں تعلیم سے بچے بہت جلدی نئی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں انہیں ہضم کر لیتے ہیں ،سیکھ لیتے ہیں اور پوچھنے پر بہت روانی سے انہیں دھراکر سنا دیتے ہیں ۔مادری زبان میں دی جانے والی تعلیم بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے،مگر پاکستان میں معاملہ اسکے بالکل برعکس ہے


شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com

مادری زبان وہ ہوتی ہے جو کسی بھی شخص کو ورثے میں ملتی ہے یعنی بچے کی پیدائش کے بعد جس زبان سے اسے گھر میں پہلی بار شناسائی ملتی ہے وہ اس کی مادری زبان کہلاتی ہے، مادری زبان کا مطلب وہ زبان جو ماں بولتی ہے تو جیسی ماں کی محبت ہو تی ہے ویسی ہی شیرینی مادری زبان میں بھی ہو تی ہے ،بچے کی پہلی پرورش گاہ ماں کی گود ہوتی ہے اس لیے اس کا پہلا رابطہ بھی ماں کی زبان سے ہوتا ہے،اور وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں روابط کا وسیلہ بھی یہی مادر زبان ہو تی ہے۔مادری زبان صرف بولنے تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ اسکے پس منظر میں اس علاقے کا،اس تہذیب کا،اس ثقافت کا اور انکی روایات کا عظیم اور صدیوں پر محیط ورثہ بھی موجود ہوتاہے۔زبان دراصل کسی بھی تہذیب کا سب سے بڑا اظہار ہوتی ہے۔مادری زبان میں ہی بچے کو ایک نسل اپنا ماضی منتقل کر رہی ہوتی ہے اور مادری زبان میں ہی ایک نسل اپنے ثقافتی مستقبل کی تعمیر کر رہی ہوتی ہے۔مادری زبان کے محاورے بچے کے مزاج کا پتہ دیتے ہیں ،مادری زبان کی تراکیب انسان کی زبان کے علاقائی پس منظر کا اندزاہ لگانے میں ممدو معاون ثابت ہوتی ہیں اور مادری زبان کی شاعری جو ماں بچوں کو سلاتے ہوئے لوری میں سناتی ہے یا روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کے لیے گنگناتی ہے اور بہت ہی چھوٹی عمر میں کھیل تماشوں میں پڑھے جانے والے ٹوٹے پھوٹے اشعار کسی بھی زبان کی وہ بنیادیں ہیں جن پر اسکا شاندار محل تعمیر ہوتا ہے۔یہی مادری زبانیں بطور ذریعہ اظہار و ابلاغ فرد کی شخصیت کی تشکیل و تکمیل میں موثر کردار ادا کرتی ہیں۔
مادری زبان کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر رکھنے کے لیے نومبر 1999ء میں یونیسکو کی جنرل کانفرنس میں انسانی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے سلسلے میں کی گئی ایک کانفرنس میں ہر سال 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاکہ مختلف ثقافتوں اور ورثوں کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں کو بھی زبوں حالی سے بچایا جا سکے،اس فیصلے کے بعد 21 فروری 2000ء سے ہر سال مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جانے لگا تاکہ مادری زبان کی اہمیت اور اس سے وابستہ ثقافتی و تہذیبی پہلوؤں کو عالمگیر سطح پر روشناس کرایا جا سکے۔ ہر ملک کی ایک قومی زبان ہوتی ہے جس سے ہر ملک کے افراد کی نشاندہی ہوتی ہے اور انٹرنیشنل لیول پر وہ اس ملک کی پہچان بنتی ہے اسی طرح دیگر علاقائی زبانیں اس ،ملک کی ثقافت اور کلچر کا اظہار ہو تی ہے ، پاکستان میں قومی زبان اردو کے بعد سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے ،اس کے علاوہ سندھی، سرائیکی،پشتو ، بلوچی،ہندکو،براہوی اور کئی دیگر زبانیں شامل ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔
اسی طرح اگر اقوام عالم کی بات کی جائے تو امریکہ’ افریقہ ‘ چین’روس’ فرانس’جرمنی’ ایران’ اٹلی وانڈیا اور دیگر ممالک کی اقوام کی اپنی علیحدہ زبانیں ہیں جو کہ اقوام کے افراد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 516 ناپید ہو چکی ہیں۔دُنیا میں سب سے زیادہ زبانیں پاپوانیوگنی میں بولی جاتی ہیں جہاں کل زبانوں کا 12 فیصد یعنی 860 زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ 742 زبانوں کے ساتھ انڈونیشیاء دوسرے ‘ 516 کے ساتھ نائیجیریا تیسرے، 425 کے ساتھ بھارت چوتھے اور 311 کے ساتھ امریکا پانچویں نمبر پر ہے۔ آسٹریلیا میں 275 اور چین میں 241 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق دُنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی مادری زبان چینی ہے جسے 87 کروڑ 30 لاکھ افراد بولتے ہیں ۔ مادری زبانوں کے فروغ اور تحفظ کی تمام کوششیں نہ صرف لسانی رنگا رنگی اور کثیر اللسانی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں ‘ بلکہ یہ د’نیا بھر میں پائی جانے والی لسانی اور ثقافتی روایات کے بارے میں بہتر آگہی بھی پیدا کرتی ہیں اور عالمی برادری میں افہام و تفہیم’ رواداری اور مکالمے کی روایات کی بنیاد بنتی ہے۔کرہ ارض پر انسان5700سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں مگر ان مادری اور مقامی زبانوں کو چند زبانوں کے وائرس سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ خاص طور پر انگریزی دُنیا کی ہزاروں مقامی زبانوں کو نگل گئی ہے اور ابھی بھی اس کی زبان خوری ختم نہیں ہوئی۔ چند اقوام اور طبقات کی لسانی دہشت گردی سے زبانیں محبت و اخوت کے بجائے نفرت و تقسیم کا موجب بننے لگی ہیں۔ اس سے عالمگیریت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
مادری زبان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ،کیونکہ ایک بچہ اپنی پرورش کے دوران پہلی بار جو زبان سنتا اور بولتا ہے وہ مادری زبان ہے اور وہ اسی سے مانوس ہو تا ہے ،یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اسکے اورنظام تعلیم کے درمیان ایک آسان فہم رابطے کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں ۔مادری زبان میں تعلیم سے بچے بہت جلدی نئی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں انہیں ہضم کر لیتے ہیں ،سیکھ لیتے ہیں اور پوچھنے پر بہت روانی سے انہیں دھراکر سنا دیتے ہیں ۔مادری زبان میں دی جانے والی تعلیم بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے جس کے نتیجے میں وہ خوشی خوشی تعلیمی ادارے میں بھاگتے ہوئے آتے ہیں اور چھٹی کے بعد اگلے دن کا بے چینی سے انتظارکرتے ہیں۔معلم کے لیے بھی بہت آسان ہوتا ہے کہ مادری زبان میں بچوں کو تعلیم دے اسکے لیے اسے نہ اضافی محنت کرنا پڑتی ہے اور نہ ہی بچوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے ۔مادری زبان کی تعلیم سے خود زبان کی ترویج واشاعت میں مددملتی ہے ،زبان کی آبیاری ہوتی ہے ،نیاخون داخل ہوتا ہے اورپرانا خون جلتارہتاہے جس سے صحت بخش اثرات اس زبان پر مرتب ہوتے ہیں۔انسانی معاشرہ ہمیشہ سے ارتقاء پزیر رہا ہے چنانچہ مادری زبان اگر ذریعہ تعلیم ہو تو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی مادری زبان بھی ارتقاء پزیر رہتی ہے،نئے نئے محاورے اور روزمرے متعارف ہوتے ہیں ،نیا ادب تخلیق ہوتا ہے،استعمال میں آنے والی چیزوں کے نئے نئے نام اس زبان کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔
وطن عزیز،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہت سی مادری زبانیں ہیں جنہیں علاقائی زبانیں بھی کہا جاسکتا ہے ،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بہت کم علاقوں میں ان زبانوں کی سرپرستی کی جاتی ہے۔پاکستان کا تعلیمی نظام،عدالتی نظام اور دفتری نظام سب کا سب انگریزی زبان میں ہے۔بعض اوقات تو اس غیرضروری حد تک انگریزی زبان کو استعمال کیا جاتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے ،پوری دنیا میں اپنی زبان پر فخر کیا جا تا ہے علاقائی زبانوں کو فروغ دیا جا تا ہے جبکہ پاکستان کا معاملہ بالکل الٹ ہے۔ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر علاقائی زبانوں کی سرپرستی کی جا ئے ،اردو کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کے فروغ سے ہی ہم اپنی ثقافت اور اقدار اپنی آئندہ نسلوں کو منتقل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے ۔