Official Website

پاکستان کو معاشی حب بنانے کے لیے سفارت کاروں کو اقتصادی سفارت کاری کرنا ہوگی، وزیر خارجہ

19

ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم اپنی جغرافیائی پوزیشن کومد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو بہت بڑا اقتصادی حب بنانا چاہتے ہیں جو محض درآمدات، برآمدات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک جامع تصور ہے۔

ملتان میں اپنے آبائی حلقے کے دورے کے دوران مختلف تقریبات سے خطاب اور وفود سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن مایوس اور مسترد شدہ سیاست دانوں کا ٹولہ ہے، جس کا اب واحد کام انتشار کی سیاست ہے، 2018ء سے اب تک حکومت گرانے کی بارہا کوششیں کی گئیں انہیں ناکامی ہوئی، اب اگر عدم اعتماد کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں تو اپنا شوق پورا کرلیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس اگر ووٹ مکمل ہوتے تو وہ حکومت میں ہوتے کیونکہ ان کے پاس ووٹ پورے نہیں ہیں لہذا وہ دائیں بائیں دیکھ رہے ہیں، دائیں بائیں دیکھنے والوں کو ناکامی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اس حقیقت کو تسلیم کرے 2018ء کے انتخابات میں عوام نے انہیں مسترد کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومتی کارکردگی کی بنا پر کہہ رہا ہوں 2023ء کا سال بھی تحریک انصاف کا سال ہے، اپوزیشن کو2023ء میں بھی مایوسی ہوگی، اگلی باری پھر ہماری ہے کیونکہ ملک درست سمت پرجا رہا ہے، قوم ہمارا ساتھ دے انشاء اللہ ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتیں (مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی) باریوں کی سیاست اور فرینڈلی اپوزیشن کا کھیل کھیل کر عوام کو بے وقوف بنا رہی تھیں، جس پر عوام اُن سے متنفر ہوئے اور پھر عوام کو وزیراعظم عمران خان کی شکل میں ایک ایماندار اور محب وطن قیادت میسر ہوئی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ عوام کی امیدوں کا مرکز وزیراعظم عمران خان ہیں کیونکہ عوام جانتے ہیں وزیراعظم عمران خان ہی ملک کو تمام بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ محمود قریشی نے واضح کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے کسی چور اور لٹیرے کو این اے آر او نہیں دیا اور نہ دیں گے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں کرپشن اور لٹیروں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو معاشی حب بنانا چاہتے ہیں، اس لیے ہماری تمام توجہ جغرافیائی اقتصادی ترجیحات  کی طرف ہے، ہم اپنی جغرافیائی پوزیشن کومد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو بہت بڑا اقتصادی حب بنانا چاہتے ہیں، جس کے لئے اقتصادی سفارت کاری کا تصور پیش کیا ہے، اقتصادی سفارت کاری محض درآمدات، برآمدات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک جامع تصور ہے، جس کے لیے ہمارے سفارت کاروں کو اقتصادی سفارت کاری کی ذمہ داری سنبھالنا ہوگی، تب ہی ہم پاکستان کو مضبوط معاشی حب بنانے میں کامیاب ہوں گے۔