Official Website

ایف آئی اے اہلکاروں کے تشدد سے ناک کی ہڈی اوربینائی کو نقصان پہنچا، صحافی محسن بیگ

21

اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ایڈیٹر انچیف آن لائن نیوز ایجنسی محسن بیگ پر تھانہ مارگلہ میں حراست کے دوران تشدد کے معاملہ کی انکوائری مکمل کرلی ہے۔

ذرائع کے مطابق انکوائری ٹیم کے سامنے بیان قلمبند کراتے ہوئے محسن بیگ نے ڈسڑکٹ مجسٹریٹ کوبتایا کہ 16 فروری کی صبح سوانوبجے نامعلوم افراد میرے گھر داخل ہوئے، بیوی بچوں کے شور سے میری آنکھ کھلی کیونکہ میں سورہا تھا۔

محسن بیگ نے بتایا کہ میرے پوچھنے پرنامعلوم افراد نے بتایا کہ ہم ایف آئی اے کے اہلکار ہیں،ان اہلکاروں نے کہا کہ آپ کو گرفتارکرنے آئے ہیں جبکہ ایف آئی اے اہلکاروں کے پاس وارنٹ نہیں تھے جس کے باعث جھگڑا ہوا کیونکہ خود کو ایف آئی اے اہلکار کہنے والے دیواریں پھانگ کر گھر میں داخل ہوئے تھے۔

صحافی محسن بیگ نے انکوائری ٹیم کو بتایاکہ مجھے کچھ روز سے دھمکیاں دی جارہی تھیں، میں نے 15 پر کال کرکے پولیس کو بتایا کہ میرے گھر میں ڈاکو گھس آئے ہیں، اس دوران ایس ایس پی ںے جب اپنا تعارف کرایا تو میں نے اُس سے وارنٹ دکھانے پر ساتھ چلنے کی پیش کش بھی کی۔

انہوں نے مجسٹریٹ کو بیان میں کہا کہ ایس ایس پی مجھے تھانہ مارگلہ ایس ایچ اوکے کمرے میں لے آیا جہاں ایس ایچ اوخرم شہزاد کے کمرے میں 6 سے 7 ایف آئی اے اہلکاروں نے مجھ پر تشدد کیا، جس کے نتیجے میں میری ناک کی ہڈی، 2  پسلیوں کو نقصان پہنچا جبکہ میری آنکھوں سے خون رسنے لگا، جس کے بعد اب ایک آنکھ سے کم نظر آرہا ہے۔

صحافی محسن بیگ نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بتایا کہ پولیس رات 2 بجے تک میرے میڈیکل کے لیے پمز اور پولی کلینک کے چکر لگواتی رہی۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے تمام بیانات قلمبند کیے اور اس مقصد کے لیے ٹیم نے تھانے کا دورہ اور ریکارڈ کا جائزہ بھی لیا، پولیس نے متعلقہ تھانے میں صحافیوں سمیت ہر کسی کے داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

ایف آئی اے اہلکاروں نے مجسٹریٹ کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں کہا کہ محسن بیگ نے ایف آئی اے ٹیم کویرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے ساتھیوں کے ہمراہ حملہ کیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ایس ایچ او مارگلہ خرم شہزاد نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا اعلیٰ افسران کے حکم کے مطابق کیا۔