Official Website

اپوزیشن عدم اعتماد لے آئے، ناکامی ان کا مقدر ہے: وفاقی وزیر داخلہ

29

اسلام آباد: وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں 172 ارکان کو لانا اپوزیشن کا کام ہے جو ناکامی پر کہے گی کہ فون کالز آگئی تھیں یا ارکان کو کورونا ہوگیا تھا۔

شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بڑے شوق سے اسلام آباد آئے اسے کچھ نہیں ملے گا، جب بھی حکومت مخالف تحریک چلی، اس کا نتیجہ خواہش کے مطابق نہیں ملا، اگر وہ عدم اعتماد لاتی ہے تو اس سے بھی انہیں کچھ نہیں ملے گا اور ناکام ہوگی، ساڑھے تین سال سے آپ کہہ رہے ہیں آج آرہے ہیں، کل آرہے ہیں، 172 ارکان لانا آپ کا کام ہے، بعد میں یہ کہیں گے کہ فون کالز آگئی تھیں، کورونا ہوگیا تھا، عمران خان سرخرو ہوگا اور اسے کسی فون کال کی ضرورت نہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ 23 مارچ کو اپوزیشن نہیں آئے گی اور اگر آتی ہے تو آ جائے، اپوزیشن نے کارڈز چھپائے ہیں تو عمران خان بھی چھاتی سے لگا کر کارڈ کھیلتا ہے، ملاقاتوں کا کچھ نہیں نکلنا، الیکشن میں ایک سال تو رہ گیا ہے، اپوزیشن عدم اعتماد کا ووٹ لائے گی تب بھی پھنسے گی اور اس کا جو نتیجہ آئے گا اس پر بھی پھنسے گی، فوج نے واضح کردیا ہے ہم منتخب حکومت کے ساتھ ہیں، فوج کی حکمت عملی بیس بیس سال کی ہوتی ہے۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن انتشار کی طرف جا رہی ہے جس کی وجہ سے کوئی سیاسی حادثہ ہوسکتا ہے، یہ انتشار اور خلفشار ان کے گلے پڑے گا، یہ بڑھکیں مارتے تھے اور بڑے لوگوں کے نام لے کر بیان دیتے تھے ، آج اپنے بلوں میں گھس گئے ہیں، قلندرز چھائیں گے اور یہ فارغ ہوجائیں گے، بلاول زرداری اسلام آباد شوق سے آئیں، اپوزیشن ایک دوسرے گلے پڑتی تھی آج پاؤں پڑ رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جہانگیر ترین سے بھی بات ہونی چاہیے اور امید ہے وہ ذمہ داری کا ثبوت دیں گے، ن لیگ 14 سال بعد ق لیگ کے پاس جاسکتی ہے تو جہانگیر ترین اور عمران خان تو پرانے ساتھی ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ کراچی میں قتل صحافی اطہر متین زبردست آدمی تھا، سندھ حکومت کہے تو تھانوں میں بھی رینجرز دینے کو تیار ہیں، کراچی کے حالات بہت خراب ہیں، جیسے وہاں کوئی قانون ہی نہیں اس کے برے نتیجے بھی نکل سکتے ہیں۔