Official Website

پیکا قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

28

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے پیکا میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا ہےکہ ملک میں آزادی اظہارکا قتل جمہوریت کو سبوتاژ کرنےکے مترادف ہے، صحافیوں کو اسی قانون کے تحت گرفتارکیا گیا تھا جس میں ترمیم سے اسے مزید سخت بنایا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی ہے جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کل سماعت کریں گے۔

 پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ (پیکا) ترمیمی آرڈیننس کیا ہے؟

20 فروری کو حکومت نے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ (پیکا) ترمیمی صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت پیمرا کے لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز کو حاصل استثنیٰ ختم کیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے تحت تنقید جرم بن گئی اور جرم ناقابلِ ضمانت ہوگا، پولیس پکڑ کر حوالات میں بند کرے گی اور 6 ماہ میں مقدمے کا فیصلہ ہوگا۔

ٹرائل کورٹ ہر ماہ کیس کی تفصیلات ہائیکورٹ میں جمع کرائے گی اور جان بوجھ کر جعلی خبر پھیلانے، علم ہونے کے باوجود غلط معلومات نشر کرنے، کسی شخص کی ساکھ یا نجی زندگی کو نقصان پہنچانے کا جرم ثابت ہوگیا تو زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک کی سزا ملے گی اور10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔

ترمیمی ایکٹ میں تنقید سے مبرا شخص کی تعریف بھی شامل کردی گئی ہے، حکومتی قوانین سے قائم کی گئی کوئی بھی کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ، تنظیم، اتھارٹی شامل ہوگی جبکہ متاثرہ شخص کے ساتھ ساتھ اس کا مجاز نمائندہ یا سرپرست بھی شکایت کر سکے گا۔