Official Website

ہارٹ اٹیک سے متاثرہ دل کے جینیاتی مطالعے اور علاج میں اہم کامیابی

59

ایڈنبرا: ہم جانتے ہیں کہ دل کے شدید دورے کے بعد لاکھوں خلیات، بافتیں اور پٹھے تیزی سے مردہ ہوجاتے ہیں۔ اس عمل کو جینیاتی گہرائی میں سمجھنے سے نہ صرف اس کا علاج ممکن ہوسکے گا بلکہ نئے خلیات بنانے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ اب اس ضمن میں ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے جسے سائنسدانوں نے انتہائی اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا مرکز برائے قلب کی ڈاکٹر میری برٹان اور ان کے ساتھی ایک عرصے سے ہارٹ اٹیک کے بعد جینیاتی تبدیلیوں پر غور کر رہے ہیں۔ ہارٹ اٹیک کے بعد سیکنڈوں میں لاکھوں کروڑوں خلیات مرجاتے ہیں اور دل کا بڑا حصہ بھی بے عمل ہوسکتا ہے تاہم اس کے بعد جینیاتی تبدیلیاں جاننے سے جین تھراپی ممکن ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر میری دوبارہ افزائش کرنے والے مشہور خلیات ’اینڈوتھیلیئل پروجنیٹر سیلز‘ (ای پی سی) پر غور کررہی ہے۔ اگرچہ دل اور شریانوں کی اندرونی دیواران سے ملتے جلتے اینڈوتھیلیئل خلیات سے ہی بنی ہوتی ہے۔ اب دل کے دورے اور دیگر عارضوں میں یہ خلیات برباد ہوجاتے ہیں لیکن ای پی سی سے ان کی مرمت کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر میری اس کا انکشاف 2019ء میں کرچکی ہیں۔
انہوں نے دل کے دورے کے بعد بعض مریضوں کے دل سے خلیات جمع کرکے ان میں ایسے جین معلوم کیے جو قلبی خلیات اور خون کی رگیں متاثر ہونے کے بعد سرگرم ہوتے ہیں۔ برسوں کی عرق ریزی سے انہوں نے اس کا اٹلس بنایا ہے تاکہ خون کی شریانوں اور قلب کی مرمت کی جاسکے۔ یہ کام اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا۔

سائنسدانوں کے مطابق ان جین کو ہدف بنا کر مجروح قلب کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ یعنی جیسے ہی مریض کو دل کا شدید دورہ ہوتو جین تھراپی کا ٹیکہ لگا کر مریض کو مزید نقصان سے بچایا جاسکتا ہے۔ اس طرح جین خود دھیرے دھیرے دل کو بحال اور تندرست کرسکےگا۔

قدرت کے اس نظام میں زیبرا فش اپنے دل کی مرمت خود کرسکتی ہے۔ دوسری جانب امریکی سائنسدانوں نے چوہوں اور خنزیروں کے دل پر تحقیق سے سگنل اور پاتھ وے کو پڑھا ہے جس پر عمل کرکے دل کی دوبارہ بحالی ممکن ہے۔