Official Website

نباتات کے ذریعے ایڈز اور کینسر کی ادویات تیار کی جاسکتی ہیں، ماہرین

42

کراچی: بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ متعدد خطرناک امراض سے مقابلے کرنے کے لیے ادویاتی پودوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو بین الاقوامی سمپوزیم کے آخری روز آئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی میں منعقدہ اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ سمپوزیم میں تقریباً20 ممالک بشمول جرمنی امریکا، برطانیہ، چین، سوئیڈن، ایران، عراق، ترکی، عراق، سری لنکا، انڈونیشیا، اذربائیجان، قازقستان، مصر، بنگلہ دیش، نیپال، سوڈان، نائجیریا، کیمرون اور برکینا فاسو کے 60 سائنسدانوں جبکہ صرف پاکستان سے تقریباً400 محققین نے شرکت کی۔ ملکی و غیر ملکی سائنسدانوں نے نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری کے موضوع پر متعدد لیکچرز دیے۔

بین الاقوامی مرکز اور مختلف ممالک کے تحقیقی اداروں کے درمیان تحقیقی معاہدے بھی طے پائے جبکہ بین الاقوامی سائنسدانوں نے بین الاقوامی مرکز میں بطور اُستاد خدمات انجام دینے میں دلچسپی کا بھی اظہارکیا۔
پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا ادویاتی نباتات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے البتہ ان پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ ملیریا، کینسر اور ایڈز جیسے امراض کے خلاف نئی ادویات کی تیاری میں یہ نباتات اہم ذریعہ ہیں، نیچرل پروڈکٹ کمیسٹری کو تیسری دینا میں مزید توجہ اور معاونت درکار ہے، مسلم دنیا میں سائنسی فکر کی روایت کمزور ہے، ہمیں مسلم ممالک میں سائنسی ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سائنس اقوام کے درمیان خلیج کو کم کرتی ہے۔ اس موقع پر غیر ملکی سائنسدانوں نے کہا اتنی بڑی اور منظم سائنسی کانفرنس کا انعقاد پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ آخر میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے سمپوزیم کے شرکا اور پوسٹرمقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے محقیقین کے درمیان اسناد تقسیم کیں۔ نیچرل پروڈکٹ کیسٹری کے موضوع پر 4 روزہ15ویں بین الاقوامی سمپوزیم مہلک امراض کے خلاف ادویاتی پودوں سے نئی دواؤں کی تیاری کی سفارش کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔