Official Website

غلامانہ ذہنیت قومی زبان کے نفاذ میں رکاوٹ

162

قومی زبان اردو کا نوحہ !
غلامانہ ذہنیت قومی زبان کے نفاذ میں رکاوٹ
قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی تخلیق کے ساتھ ہی اسکی قومی زبان اردو کا بھی تعین کردیا تھا
اردو زبان کے دفتری نفاذ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین کو چھ سال سے زائد عرصہ گزر گیا
ارباب اختیارکی غلط پالیسیاں ،اردو میڈیم اور انگلش میڈیم کے نام پر قوم دو طبقوں میں تقسیم
قومی زبان اردو کے نفاذ میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں ”وائس آف پاکستان فورم ”میں مختلف مکاتب فکر کا اظہار خیال


شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com

وہ عطر دان سالہجہ میرے بزرگوں کا
رچی بسی ہو ئی اردو زبان کی خوشبو

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اس میں کسی شک و شعبے کی گنجائش نہیں لیکن پاکستان کی قومی زبان ارو کا دفتری نفاذ کیوں نہ ہوسکا؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شائد کوئی دینا نہیں چاہتا۔۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی تخلیق کے ساتھ ہی اسکی قومی زبان اردو کا بھی تعین کردیا تھا قائداعظم کی درجن سے زیادہ کوٹیشنز موجود ہیں جس میں انہوں نے بار بار اردو زبان کی اہمیت پر زور دیاانہوں نے بار بار کہا کہ نہ آپ بنگالی ہیں نہ آپ پنجابی ہیں نہ آپ پختون ہیں نہ آپ بلوچی ہیں آپ پاکستانی ہیں اور مسلمان ہیں۔ہندو اور انگریز اردو زبان کو اس لیے ناپسند کرتے تھے کہ اس کا رسم الخط عربی اور فارسی سے ملتا جلتا تھا اور یہ دونوں زبانیں اسلامی ثقافت کی نمائندہ ترین زبانیں تھیں۔قائداعظم محمد علی جناح کی مادری زبان اگرچہ اردو نہیں تھی لیکن برِصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کے تناظر میں وہ اردو کی اہمیت اور ضرورت سے پوری طرح واقف تھے، لہذا وہ اپنی آخری سانس تک اردو زبان کے دفاع اور نفاذ کے لیے کوشاں رہے۔1934 میں قائد اعظم نے مسلم لیگ کی انتخابی مہم کے لیے جو دستور تیار کیا اس میں واضح طور پر دفعہ نمبر11 میں لکھا تھا کہ اردو زبان اور رسم الخط کی حفاظت کی جائے گی۔آزادی سے قبل جب کانگریس نے "ہندی ہندوستان” کی مہم چلائی تو تب بھی 1935 میں قائداعظم نے برملا اعلان کیا کہ اس اسکیم کا اصل مقصد اردو کا گلا دبانا ہے۔قائداعظم محمد علی جناح نے 19 اپریل 1935 کو ایک اخباری بیان میں کہا کہ "اگر ہم اردو زبان کے تحفظ کے لیے سینہ سپر نہیں ہوں گے تو ہندی کو بطور قومی زبان ہم پر مسلط کردیا جائے گا۔اکتوبر 1937 میں سٹی مسلم لیگ بجنور یوپی کے ایک جلسہ میں قائداعظم نے کہا کہ اسلام اور اردو مسلمانوں کے اتحاد کے بنیادی عناصر ہیں۔
جنوری 1938 میں مسلم لیگ کلکتہ کے ایک جلسے میں کانگریسی ذہنیت کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ہمیں برِصغیر میں اپنے وجود کی پائیدار ضمانت درکار ہے تو ہمیں اردو کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔”
ہندو مسلم مفاہمت کے حوالے سے جواہرلال نہرو سے مذاکرات کے دوران قائداعظم نے 17 مارچ 1938 کو جواہرلال نہرو کے نام ایک خط میں ہندو مسلم مفاہمت کے لیے جو چودہ نکات بیان کیے تھے اس میں بھی انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ "مسلمان اردو کو ہندوستان کی قومی زبان دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اردو زبان کو نہ محدود کیا جائے اور نہ کسی قسم کا نقصان پہنچایا جائے۔”
اکتوبر 1938 میں سندھ صوبائی لیگ کانفرنس میں انہوں نے کانگریس کی صوبائی حکومتوں کے مسلم دشمن اقدامات کی مخالفت کی اور فرمایا اردو ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کی مادری زبان اور ہندوستان میں رابطے کی زبان ہے۔ اس لیے اس کی حفاظت ہمارا قومی فرض ہے۔ ہم اردو کے خلاف اقدامات کو اسلام، مسلم ثقافت اور ادب کے خلاف اقدامات تصور کرتے ہیں۔”
1940 میں قراردادِ پاکستان کی منظوری کے بعد انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ "پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی کیوں کہ اردو ہی برِصغیر کی واحد زبان ہے جس میں نہ صرف مذہب ثقافت اور ادب کے حوالے سے مسلمانانِ برِصغیر کا عظیم علمی سرمایہ محفوظ ہے بلکہ یہ رابطہ کی زبان بھی ہے، اس لیے ضروری ہوگا کہ اسے پاکستان کی قومی زبان کی حیثیت دی جائے۔”
دسمبر 1943 کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں جب نواب بہادر یار جنگ نے قائداعظم کی تقریر کا نہایت پرجوش انداز میں اردو ترجمہ پیش کیا تو قائداعظم نے برجستہ کہا کہ آج مسلم لیگ کو اس کی زبان مل گئی ہے۔
1944 میں گاندھی جناح مذاکرات کے موقع پر بھی انہوں نے دوقومی نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیگر عناصر کے علاوہ ہماری زبان اور ادب بھی ہندوں سے مختلف ہے۔
1946 میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں ایک مرتبہ سر فیروز خان نون انگریزی زبان میں تقریر کرنے لگے تو قائد اعظم نے انہیں ٹوکتے ہوئے فیصلہ دیا کہ "پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی۔”
مئی 1947 میں آل انڈیا مسلم نیوز پیپرز ایسوی ایشن کے کنونشن سے دہلی میں خطاب کرتے ہوئے ماضی میں مسلم پریس کی کمزور صورتِ حال پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اردو ہماری قومی زبان کا درجہ لینے جارہی ہے، ایسی صورت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو صحافت کو زیادہ سے زیادہ ترقی دی جائے۔
قیام پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 22 فروری 1948 کو ہوا جس کی صدارت قائداعظم نے کی۔
23 فروری کو دستور ساز اسمبلی کے اراکین نے حلف اٹھایا اور اسی روز فیڈرل کورٹ (سپریم کورٹ) کے قیام کا اعلان ہوا۔ 25فروری 1948 کو دستور ساز اسمبلی نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا۔
1948 میں جب مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن نے بنگالی زبان کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی تو قائد اعظم نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود ڈھاکہ جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں پہنچ کر واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہی ہو گی۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ قائد اعظم نے ڈھاکہ کے جلسہ عام میں 21 مارچ 1948 کو بہت صاف صاف فرمایا کہ: "بالآخر اس صوبے کے لوگوں کو ہی حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس صوبے کی زبان کیا ہو گی لیکن میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو، اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں۔ جو کوئی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے۔ دوسرے ملکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ اردو ہی ہو گی۔
24مارچ 1948 کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب میں قائداعظم نے واضح طور پر کہا کہ "آپ صوبے میں سرکاری زبان کے طور پر جس زبان کا چاہیں انتخاب کریں لیکن جہاں تک صوبوں کے درمیان خط و کتابت کا تعلق ہے وہ اردو میں ہوگی۔ اردو واحد زبان ہے جو پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، اردو مسلمانوں کا صدیوں پرانا ورثہ ہے اسی لئے اردو کو ہندوستان سے دیس نکالا دے دیا گیا ہے۔ اردو دوسرے اسلامی ممالک کی زبانوں کے قریب تر ہے۔ اس لئے پاکستان کی قومی زبان اردو ہی ہوسکتی ہے۔ صوبے میں آپ جس زبان کو چاہیں سرکاری زبان بنائیں۔
قائداعظم نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے لیکن انکی زندگی اتنی نہ تھی کہ وہ قومی زبان کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھاپاتے اور پھر بدقسمتی یہ ہوئی کہ ان کے جانے کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والوں میں انگریزی زبان کے دلدادہ بھی شامل ہوتے گئے کچھ لوگ آزاد ہونے کے بعد بھی ذہنی طور پر غلام ہی رہے اور بدقسمتی سے انہوں نے انگریزی کو ہی ترقی کا زینہ سمجھا اور ان کی اسی سوچ نے ہمارے ملک کے نظام تعلیم کو بھی منقسم کردیا انگریزی پڑھنے والے اردو ذریعہ تعلیم کو حقیر سمجھنے لگے ساری کی ساری ترقی غلامی کی زبان بولنے میں سمجھی جانے لگی لہٰذا اردو میڈیم کو الگ اور انگریزی میڈیم کو الگ الگ درجوں میں تقسیم کردیا گیا انگریزی بولنے والے پاکستانی خود کو آقا سمجھتے ہوئے سرکاری اداروں میں اپنی حاکمیت جمانے لگے او رپھر فارن فنڈنگ بھی ایک وجہ بنی جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے والے اسے اپنی شناخت سے محروم رکھنا چاہتے تھے انہوں نے انگریزی پرور لوگوں کو نوازا اور پاکستان سے اسکی شناخت چھیننے کیلئے اردو کو ہی متنازعہ بناڈالا۔1973ء کے آئین کے آرٹیکل 251 کی واضح شک جس میں اردو کو سرکاری طور پر واضح کرنے کے احکامات درج ہیں لیکن ہماری حکومتوں کا حصہ بننے والے بہت سے عناصر انگریزی کو مسلط کرکے اپنے بیرونی آقائوں کے اشاروں پر ملک میں طبقاتی تقسیم کو مٹانا نہیں چاہتے اسی لئے قومی زبان اردو کا قومی نفاذ آج تک ممکن نہیں ہوسکا۔دستور پاکستان میں اردو کو قومی زبان قرار دیئے جانے کے بعد اصولی اور قانونی طور پر سرکاری خط وکتابت سمیت تمام وفاقی صوبائی اور بلدیاتی دفتری امور سمیت تعلیمی نظام میں اردو ہی نظر آنی چاہئے تھی مگر افسوس ایسا نہ ہوسکا۔اردو ہماری قومی زبان ضرور ہے لیکن بدقسمتی سے ہم پر انگریزی ایسے مسلط ہے کہ اگر ہم نے مقابلے کا امتحان دینا ہے ڈاکٹر وکیل یا جج بننا ہے تو ہمیں انگریزی آنی چاہئے انگریزی ہمارے حواسوں پر اور خاص طور پر طلباء کے حواسوں پر ایسے سوار ہوئی کہ بڑی تعداد میں بچے انگریزی میں فیل ہونا شروع ہوگئے یوں تو یہ بحث عرصے سے جاری ہے کہ اگر اردو قومی زبان ہے تو اسے سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر رائج کرنے میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں۔ اس بحث کو مزید تقویت اس وقت ملی جب 8 دسمبر 2015ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اردو کو دفتری زبان رائج کیا جائے مگر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی توہین ہوتے ہوئے تقریباً چھسال ہونے کو ہیں اور شائد تاریخ میں سپریم کورٹ کا یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر عمل درآمد کیلئے حکومت کو کسی خرچے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف ایک آرڈر ہے یہ نافذ کیا جاسکتا ہے لیکن وہ کیا رکاوٹیں ہیں جو حائل ہیں کیا مسائل ہیں جس سے اردو کو دفتری زبان قرار دیا جانا مشکل لگ رہا ہے ۔لوگ اردو کے نفاذ سے کیوں خوفزدہ ہیں ان سارے سوالوں کا جواب وقت ضرور دیگا۔آج ہم نے اپنے قارئین کیلئے ایک فورم کا اہتمام کیا ہے جس میں سب کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو کا دفتری نفاذ کیوں نہ ہوسکا اس حوالے سے مختلف طبقہ فکر کی رائے کو ذیل میں قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش کیا جارہا ہے۔
سلیقے سے ہوائوں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
٭عطا الرحمن چوہان، صدر تحریک نفاذ اردو پاکستان نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی نے ساتھ نہیں دیا اور بعد میں آنے والوں نے قائد اعظم کی اردو بارے ساری کوششوں کو خاک میں ملا دیا۔ تحریک نفاذ اردو پاکستان قائد اعظم کے خواب کی تعبیر کے لیے کوشاں ہے اور اردو کو ملک کی سرکاری زبان بنا کردم لے گے۔ قائد اعظم کی بصیرت کے مطابق ملک و قوم کی ترقی قومی زبان کے نفاذ سے مشروط ہے۔ آج ہم جس بدحالی کا شکار ہیں، اس کی بنیادی وجہ انگریزی کا ناجائز تسلط ہے
٭ معروف شاعر اور نقاد جلیل عالی نے کہااردو زبان کے بغیر چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور گونگے ہو جاتے ہیں۔ ان سب کے درمیان رابطے اور مکالمے کا واحد ذریعہ قومی زبان اردو ہے۔ متفقہ آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے اندرونِ ملک اردو کو قومی و عوامی ترقی میں رکاوٹ بنی انگریزی کے موجودہ مقام پر لے آئیں تو ہماری تمام دیگر پاکستانی زبانوں کے فروغ کے راستے بھی ہموار ہو جائیں گے۔ اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں کا کوئی آپسی جھگڑا نہیں ہے۔ یہ نام نہاد جھگڑا کھڑا کرنے والے نا دانستگی میں انگریزی کی بالا دستی کو مضبوط کرتے ہیں۔ ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر عدالتی فیصلوں پر عمل در آمد میں مقتدر حلقوں کی کون سی مصلحتیں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔
٭سید ظہیر گیلانی نائب صدر تحریک نفاذ اردو نے کہا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ ہماری ساری ملکی زبانیں بہت خوبصورت اور فصیح و بلیغ ہیں۔ لیکن اردو واحد زبان ہے جو ملک گیر سطح پر، ہر صوبے، ہر علاقے، ہر محلے، گلی، اور ہر گھر میں سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ تمام دانشور، ادیب، سیاست دان، صحافی اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے لیے اردو کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ زبان ہماری مشترکہ میراث، پاکستانیت کی پہچان، اور ہمارے قومی اتفاق و اتحاد کی علامت ہے۔
٭معروف بیوروکریٹ محمد اسلم الوری نے کہا کہ قومی ترقی اور موجودہ عوامی مسائل کا حل ملک کو دستور کے مطابق قومی زبان میں چلانے میں مضمر ہے تاکہ عوام قومی معاملات میں شریک ہو کر ملک و ملت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
٭ادارہ فروغ قومی زبان کے سابق عہدیدار اور معروف ادیب محمد اسلام نشتر نے کہا کہ اللہ تعالی کے حکم” اور ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی ہی زبان میں بھیجا تاکہ انھیں صاف بتایا جا سکے ۔.بلاشبہ میری ایک آنکھ قومی زبان اور دوسری آنکھ مادری زبان ہے جن کی مدد سے میں دنیا کو افلاک سے پاتال تک دیکھ سکتا ہوں.میں جب وطن عزیز کی تاریخ پر نظر دوڑاتا ہوں تو ملکی ترقی اسی دور تک دکھائی دیتی ہے جب تک زمام اقتدار اہل زبان نہیں اردو ذریعہ تعلیم والوں کے ہاتھ میں رہی ،انگریزی ذریعہ تعلیم والوں کے عنان اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان زوال معاشرت و معیشت سے دوچار ہو گیا. چونکہ اسلام اور اردو،ہر دو، وج تخلیق ہاکستان ہیں اس لیے جب تک ان کا نفاذ نہیں ہو گا ملک ترقی نہیں کر سکتا کیوں کہ پاکستان کا خمیر ان دونوں سے اٹھا ہے.جانے یہ حقیقت ہمارے ذی وقار حکمرانوں کو کب سمجھ آئیگیکہاردودنیاکیدوسریبڑیزبانہیاورہمارامستقبلاردواوراردوسیوابستہہے. اردوہماریلییقابلفخرہیکیوںکہاسنیہمیںقومبنایا.بابائیقومکیفرامین؛دساتیرپاکستاناورعدالتعظمی’ پاکستانکیفیصلیکیبجاآوریمیںہیہمارے مسائل کا حل ہے.آئیے بحیثیت پاکستانی قومی اور انفرادی سطح پر قومی زبان کو اختیار کریں تاکہ ہمارا وطن سازشوں کے گرداب سے فوری نکل سکے.
٭ممتاز سیاستدان اور سابق طالب علم رہنما محمودالحسن چوھدری نے کہا کہ 25فروری 1948 پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن ہے جب قائد اعظم نیقومی اتفاق رائے سے اردو کو پاکستان کی قومی بان قرار دیااور اسی شام دستور ساز اسمبلی نے اس کی منظوری دی. ھمارے آئین کے آرٹیکل251میں لکھا ہیکہ ملکی دفتری سرکاری زبان اردو ہے اورآرٹیکل5کی رو سے بطور شہری ھمارا یہ فرض ہے کہ آئین و قانون کی پاسداری کریں۔اس فرض کی ادائیگی کے لئے تحریک نفاذ اردو ھمہ تن اور ھمہ وقت کوشاں ہے. آج کا دن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم قوم کو انگریزی کے تسلط سے نجات دلانے کے لئے اورقومی زبان کو دفتری اور سرکاری زبان کادرجہ دلانے کے لئے سرگرم عمل ہو جائیں اور اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
٭ماہر تعلیم ڈاکٹر ساجد خاکوانی نے کہا کہ ماہرین تعلیم اور مایرین نفسیات کے مطابق انسانی تخلیقی صلاحیتیں صرف اور صرف مادری زبان میں ہی ممکن ہوسکتی ہیں کہ جس زبان میں انسان سوچتاہے_ جب ذہن کا دوحصوں میں منقسم ہوجائے، ایک حصہ سوچنے کی کوشش کرے اور دوسراحصہ اسے ترجمہ کرکے اظہار کی طرف پیش قدمی کرے تو تخلیقی عمل دم توڑ دیتاہے_ یہی وجہ ہے کہ بدیسی ذریعہ تعلیم کے باعث ہماری نسل قائدانہ صلاحیتوں سے محروم ہوتی چلی جارہی ہے_ اپنی قوم کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ قومی زبان کو رواج دیاجائے تاکہ نسل نوکے تخلیقی سوتے بارآورہوں اورہم ایک باوقار قیادت کی سربراہی میں ترقی کی مبازل طے کرسکیں۔
٭ماہر تعلیم اور تحریک نفاذ اردو وسطی پنجاب کی صدر افشین شہریار نے کہا کہ آج یوم قومی زبان ہے ۔آج کے دن یعنی قائداعظم نے حتمی طورپرکیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی۔ہم نفاذ نے بھر پور کوششیں کر رہے ہیں۔ آپ بھی ساتھ دیجیے اورارباب اختیار کو مجبور کیجئے کہ اردو کو اس اک جائز مقام دیا جا ئے ۔
٭سرگودھا یونیورسٹی کی طالبہ منیبہ اسحاق نے کہا کہ قومی زبان ہمارے قومی تشخص کی پہچان ہے،نفاذ قومی زبان قوم کو احساس کمتری سے نکالنے کے لیے اور ملکی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے. یوم قومی زبان کے موقع پر میری اقتدار اعلی سے گزارش ہے کہ پاکستان کی سالمیت کے لیے ملک سے اپنی محبت کا ثبوت دے کر پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں اہم کردار ادا کریں.
٭معروف کالم نگار اور شاعر نیئر سرحدی
اردو ہماری شان ہے، اردو ہماری آن
اردو ہمارا جسم ہے، اردو ہماری جان
پچیس فروری نہیں صدیوں پہ ہے محیط!
سازی زبانوں میں فقط اردو ہے عالی شان
٭رفعت عزیز، سابق رکن آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی اور چیئرپرسن تحریک نفاذ اردو نے کہا کہ قائد اعظم کے فرمودات کو پس پشت ڈالا کر مقتدر طبقے نے قوم کی پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ آج سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں 98فیصد امیدوار ناکام ہورہے ہیں۔ یہ سب انگریزی زبان کے ناجائز تسلط کا کیا دھرا ہے۔ ہمیں قومی زبان کو اختیار کرنا ہے اور حکمران و اشرافیہ دستور کے خلاف کب تک کھڑے ہوں گے۔ عوام باشعور ہیں اور وہ انگریزی کے ذریعے اپنی نسلوں کے قتل عام کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔
٭پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ منیبہ مختار نے کہا کہ میں صرف ایک جملہ ہی رکھو گی کیونکہ یہ جملہ مکمل بات کا خلاصہ ہے کہ ” ہم اپنی زبان میں ہی آسانی سے ہر چیز بیان کر سکتے اور سمجھ سکتے ہیں اور اچھی طرح سمجھنے اور بیان کرنے سے ہی قومی ترقی میں کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔
٭ماہر تعلیم اور پرنسپل روزینہ بٹ نے کہا کہ طالب علم کے لئے اردو اس لئے ضروری ہے کہ ترقی کرنے میں زبان اہم کردار کرتی ہے جو کہ صرف اور صرف قومی زبان ہونی چاہئے ۔ جو قومیں کسی دوسری زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر علم حاصل کرتی ہیں وہ نہ صرف اپنی پہچان کھو دیتی ہیں بلکہ انکی تہذیب و ثقافت، قومی زبان کا تشخص سب مِٹ جاتا ہے ۔
٭پاکستان ائیر فورس کے سابق افسر اور شاعر شہزاد منیر احمد نے کہا کہ پاکستان میں قومی زبان اردو کا نفاذ تاریخی اہمیت ، سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے لازم ہے ۔
پہلی دوسری نسل کے بڑوں کا یہ فرض ہے کہ وہ قائد اعظم کے فرمان کے مطابق ملک میں اردو کا نفاذ یقینی بنائیں۔
٭سول انجینئر ضیا الحق ملک نائب معتمد تحریک نفاذ اردو نے کہا کہ اگر واقعی پاکستان آزاد مملکت خداداد ہے اور حکمران انگریزوں کے غلام نہیں ہیں تو پاکستانی شہریوں کو تمام اعلی سطحی امتحانات اپنی قومی زبان اردو میں دینے کی اِجازت دے کر ریاستی آزادی کا ثبوت دیا جائے ۔
٭سید مشتاق حسین بخاری صدر تحریک نفاذ اردو پشاور ڈویژن نے کہا کہ پاکستان کو قائد اعظم کے وژن کے مطابق ہی چلانا چاہیے۔ جب قائد اعظم نے بار بار اردو کو قومی اور سرکاری زبان قرار دیا ہے تو پھر ملک پر انگریزی مسلط کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
٭کالم نگار اور معاون معتمد تحریک نفاذ اردو سید عتیق الرحمن شاہ نے کہا کہ نفاذ قومی زبان تحریک پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے اور ہم اس کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں اور نفاذ تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

٭عصمت جیلانی، ماہر تعلیم نے کہا کہ قومی زبان کسی بھی ملک کی معاشرتی، تہذیبی اور ثقافتی اقدار کی ترجمان ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ اقوام کے عروج کا زینہ بلاشبہ قومی زبان کا فروغ ہے، امریکہ ، چین ، جاپان اور جرمنی کی مثال روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔پاکستان جیسی ترقی پزیر قوم کے لئے نفاذ اردو کے بغیر ملکی ترقی محض دیوانے کا خواب ہے۔
٭ہری پور یونیورسٹی کی طالبہ خنسہ گل نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں کسی قوم نے کسی دوسری قوم کی زبان کے بل بوتے پر ترقی حاصل نہیں کی. لہذا انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر ملک کی ترقی کی توقع رکھنا فضول ہے۔ اگر”اردو”کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے تو اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ طلبا اپنے نقط نظر کو بہتر انداز میں پیش کر سکیں گے۔ ان میں خود اعتمادی پیدا ہو گی۔ اس طرح ہم نوجوانوں کے ذہنوں پر انگریزی زبان کے غلبے کو کم کر سکتے ہیں۔ وہ جواب جسے کوئی طالبعلم انگریزی میں رٹنے میں اپنا اکثر وقت صرف کر دیتا ہے اور اس کے پلے بھی کچھ نہیں پڑتا اسے وہ اردو میں اچھے طریقے سے یاد کر سکتا ہے۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی انگریزی کا تسلط قائم ہے اور ہم اسے اپنی ترقی کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن یہ ہماری سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔
٭کاروباری شخصیت اور تحریک نفاذ اردو شعبہ خواتین اسلام آباد کی صدر سلمی ملک نے کہا کہ ملک میں انگریزی زبان کے تسلط کی صرف ایک وجہ ہے کہ اشرافیہ عوام کو قومی معاملات سے نابلد رکھنا چاہتی ہے اور قومی وسائل کو لوٹ رہی ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کی نسلیں بھی انگریزی کی تلوار سے عوام کا استحصال کرتی رہیں لیکن اب یہ ممکن نہیں۔ ہم نے اشرافیہ کی من مانی ختم کرکے دم لینا ہے۔
٭محمد زبیر چوھدری نائب معتمد تحریک نفاذ اردو نے کہا کہ جو قومیں اپنی پہچان اور خوداری کو خود فراموش کر دیں وہ بدترین غلامی کا شکار ہو جاتی ہیں،افسوس ہم آزاد ہو کر بھی اسی غلامانہ سوچ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اردو زبان کو فراموش کر کے ہم نسلوں پرظلم عظیم اور قومی جرم کر رہے ہیں۔ نفاذ اردو ہر خوددار پاکستانی کا مطالبہ ہے۔
٭ پنجاب ٹیچرز یونین کے صدر چوہدری اللہ رکھا گوجر نے کہا کہ انگریزی لازمی مضمو ن کی وجہ سے طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اگر قومی زبان میں نصاب رائج ہوجائے تو قوم کے بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہو سکتے ہیں۔ جو بچے رٹا لگا کر ڈگری حاصل کررہے ہی، ان کے پاس علم نہی محض ڈگریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہ معاشرے میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کرپاتے۔
٭افشاں کیانی کا کہنا ہے کہ ہم بچوں کو زبان سکھانے میں سولہ سال لگا دیتے ہیں، آخر پتہ چلتا ہے کہ نہ ڈھنگ سے زبان سیکھی ہے اور نہ علم حاصل کرپایا ہے۔ یوں ایک لا حاصل مشق میں ڈال کر نوجوانوں کا وقت ضائع کیا جارہا ہے۔ اگر قائداعظم سے محبت کے نعرے لگاتے ہیں تو قائداعظم کی تعلیمات کے مطابق قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنائیں، قوم کے ساتھ مسلسل مذاق ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔
٭ممتاز شاعر سید مظہر مسعود نے کہا کہ ہمارے نظام تعلیم نیہمیں یہ دیا ہے کہ آج کے بچے اردو لکھ نہیں سکتے اور اگر انگریزی کے اجارہ داری ختم نہ کی تو آئندہ نسل اردو پڑھ بھی نہیں سکے گی۔ جس کے نتیجے میں ہم اپنے تہذیبی ورثے اور اپنی پہچان سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ مجھ ڈر ہے کہ ہم نہ انگریزی سیکھ سکیں گے اور نہ اردو اور اپنی تہذیب سے بھی محروم ہو جائیں گے۔
٭مالاکنڈ یونیورسٹی کے طالب علم خئستہ گل خاکسار نے کہا کہ انگریزی دراصل ہماری اشرافیہ کی ذہنی غلامی اور ان کے مفادات کی وجہ سے عوام پر مسلط ہے۔ جس تک انگریزی کا تسلط رہے گا، ہم رٹا باز ڈگری ہولڈر پیدا کرتے رہیں گے۔ علم کی شمع تک جلے گی جب قومی زبان میں تعلیم دی جائے گی۔
قومی یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے ہمارے پاس اردو کی صورت میں ایک مضبوط ہتھیار موجود ہے اردو ہمیں جوڑ کرکررکھتی ہے ۔یہ ہماری پہچان ہے اور ہمیشہ ملک اپنی زبان و تہذیب سیپہچانے جاتے ہیں کسی ملک کی زبان صرف بولنے تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ اسکے پس منظر میں اس علاقے کا اس تہذیب کا اس ثقافت کا اور انکی روایات کا عظیم اور صدیوں پر محیط ورثہ بھی موجود ہوتا ہے۔زبان دراصل کسی بھی تہذیب کا سب سے بڑا اظہار ہوتی ہے ۔تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جن ممالک نے بھی ترقی کی منازل طے کیں وہ اپنی زبان میں ہی کیں۔ چین کے انقلابی رہنما مائوز ے تنگ بہت اچھی انگریزی جانتے تھے لیکن عالمی انگریز رہنمائوں سے بھی جب ملتے تو درمیان میں اپنی زبان کا مترجم بٹھاتے وہ سب سمجھتے تھے کہ انگریزکیا کہہ رہا ہے لیکن مترجم کے ترجمے کے بعد جواب دیتے۔ انگریز کوئی لطیفہ سناتا تو سمجھ چکنے کے باوجود مترجم کے ترجمہ کرنے پر ہی ہنستے تھے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکیوں نے جب جاپان فتح کیا تو شاہ جاپان نے ان سے ایک ہی بات کہی کہ میری قوم سے میری زبان مت چھیننا ۔ نشے کی ماری ہوئی چینی قوم اور جنگ میں تباہ حال جاپانی قوم اپنی زبان کی مضبوط بنیادوں کے باعث آج دنیا میں صف اول میں شمار ہوتی ہیں جبکہ انگریز کی تیارکردہ غلامانہ مصنوعی قیادت کے مقروض لہجوں نے آج پاکستان کو ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل رکھا ہے ۔قوم پوری شدت سے چاہتی ہے کہ مقابلے کے امتحانات قومی زبان میں منعقد کئے جائیں۔ابتدائی تعلیم مادری و علاقائی زبان میں اور ثانوی و اعلیٰ تعلیم قومی زبان میں جائے۔مادری وعلاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء و شعراومحققین کو سرکاری سرپرستی دی جائے انکی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیا جائے اور ان کے لئے بھی سرکاری خزانے کے دروازے کھولے جائیں۔دیگر عالمی زبانوں کی کتب کو تیزی سے قومی وعلاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنا آپ منوا سکے ۔
زبانیں کاٹ کر رکھ دی گئیں نفرت کے خنجر سے
یہاںکانوں میں اب الفاظ کے رس کون گھولے گا
ہماری قوم کے بچوں کو انگریزی سے الفت ہے
ہمیں یہ غم ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا