Official Website

وقت آنے پر تحریک عدم اعتماد لے آئیں گے بی این پی مینگل ہمارے ساتھ ہے، شہباز شریف

28

لاہور: بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ان کی رہائش گاہ لاہور میں ملاقات کی جس میں تحریک عدم اعتماد پر بات چیت ہوئی، شبہاز شریف نے کہا ہے کہ بی این پی مینگل ہمارے ساتھ ہے۔

 اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے سیاسی رابطے مزید تیز کردیے ہیں۔ اس حوالے سے بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل لاہور پہنچے جہاں انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اختر مینگل اور شہبازشریف کی ملاقات میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ اختر مینگل کی شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

تیاری جاری ہے وقت آںے پر تحریک عدم اعتماد پیش کردیں گے، شہباز شریف

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے مشترکہ طور پر بات چیت بھی کی۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے غریب آدمی کی زندگی اجیرن کردی، مہنگائی نے ہرطرف ڈیرے ڈال لیے، ہماری ملاقات میں معاشی اور سیاسی صورتحال پر بات چیت ہوئی، پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے تیاری جاری ہے۔

انہوں ںے مزید کہا کہ وقت آنے پر یہ تحریک پیش کردیں گے اور اس بدترین حکومت سے نجات حاصل کرلیں گے، بی این پی مینگل ہمارے ساتھ ہے اور دونوں جماعتیں تحریک عدم اعتماد پر یکسو ہیں۔

پی ڈی ایم نے تحریک عدم اعتماد پر کافی حد تک ہوم ورک مکمل کرلیا، اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر خان مینگل نے کہا کہ آج ہم نے تحریک عدم اعتماد پر بات کی، پی ڈی ایم نے کافی حد تک اس پر ہوم ورک مکمل کرلیا ہے، موجودہ حکومت میں بھی بلوچستان کو نظرانداز کیا گیا، اب بھی وقت ہے کہ بلوچستان کے حالات ٹھیک کیے جائیں تاکہ زیادہ دیر نہ ہو جائے، بلوچستان میں حالیہ سوزش 70 سال کی زیادتیوں کی وجہ سے ہے، تبدیلی کے نام سے اب ہمیں چڑ ہونے لگی ہے اب تبدیلی کے بجائے چھٹکارا ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بندوق سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، اسے سیاسی طور پر حل کیا جائے اور وہاں کے لوگوں کے مسائل سنے جائیں
لاپتہ لوگوں کا مسئلہ حل کیے بغیر معاملہ حل نہیں ہوسکتا، اگر کوئی گناہ گار ہے تو سزا دی جائے۔