Official Website

تحریک عدم اعتماد افسانہ ہے، چوہدری برادران کی وزیراعظم کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

30

لاہور: وزیراعظم پاکستان عمران خان چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہٰی سے ملاقات کی جس میں چوہدری برداران نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر وزیراعظم کا ڈٹ کرساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔

 وزیراعظم عمران خان وفد کے ہمراہ چوہدری برادران سے ملاقات کے لیے اُن کی رہائش گاہ پہنچے جہاں چوہدری پرویز الہی اور چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے ملاقات میں چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور اُن کی جلد صحت یابی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

عمران خان کے ہمراہ وفد میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وفاقی وزراء عبدالرزاق داؤد، فواد چوہدری، مخدوم خسرو بختیار، شفقت محمود، حماد اظہر اور عامر ڈوگر شامل تھے۔

چوہدری برادران کا ڈٹ کر وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان

ملاقات کے بعد چوہدری برادران کی جانب سے میڈیا کو جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کو بتا دیا تھا عمران خان کو ہٹا نہ سکے تو وہ پہاڑ پر اور ہم زمین کے نیچے دھنس جائیں گے، چودہ سال بعد شہباز شریف کو ہمارا خیال آگیا۔

چوہدری برادران نے کہا کہ ایسی چال کا کیا فائدہ جس کی کامیابی کا کوئی چانس ہی نہ ہو۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہم آپ کے ساتھ سیاست کریں گے، عدام اعتماد کی باتیں افسانے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم چوہدری پرویز الہیٰ اور چوہدری شجاعت سے موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلۂ خیال بھی کیا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اتحادی جماعت مسلم لیگ ق سے رابطے کے بعد دیگر اتحادیوں سے بھی ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں سے بھی جلد ملاقات کریں گے۔

علاوہ ازیں عمران خان نے اپنی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ سے بھی رابطے تیز کردئیے، دورہ لاہور کے دوران وزیر اعظم کی پنجاب کے چار ڈویژنز سے منتخب ہونے والے اراکین پارلیمنٹ سے گھنٹوں ملاقات ہوئی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم نے اپوزیشن کی تحریک کو غیر فعال کرنے کے لیے خود رابطوں کا محاذ خود سنبھال لیا ہے۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر ہی وزیراعظم نے گزشتہ روز اپنے پرانے ساتھی جہانگیر ترین سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اور صحت سے متعلق دریافت کیا تھا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے قائدین پہلے ہی ملاقات کر کے چوہدری برادران سے حمایت مانگ چکے ہیں جبکہ جماعت اسلامی نے بھی چوہدری برادران سے ملاقات کی ہے۔