Official Website

اسمبلی اجلاس بلائیں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو: احسن اقبال کا حکومت کو چیلنج

33

پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور ممبر قومی اسمبلی احسن اقبال نے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو ٹائیں ٹائیں فش کہنے والے اسمبلی اجلاس کیوں نہیں بلاتے۔

احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مجھ پر نارووال اسپورٹس سٹی کو ہائی جیک کرنے کا کیس ہے جس طرح جنرل مشرف نے نواز شریف پر ہائی جیکنگ کا کیس بنایا تھا، حکومت اپنےدعوؤں میں سچی ہے تو 32 ارب روپے میں سے 32 روپے کی کرپشن کا کیس بنائے۔

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بدنصیب وزیراعظم ہیں جنہیں موقع ملا لیکن پھر بھی وہ کچھ کام نہ کر سکے، تحریک عدم اعتماد وزیراعظم کی 4 سال کی ناکامی کے خلاف ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے پاکستان کے تمام نوکری پیشہ اور تاجر پریشان ہیں، موجودہ حکومت نے ملک کی معیشت کا ستیاناس کر دیا ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان کو سوشل میڈیا کے ذریعے چلا رہے ہیں، وزیراعظم سوشل میڈیا کے وی لاگرز کے ذریعے ملک کی مشکلات حل کرنا چاہتے ہیں، بھارت کے ساتھ محاز آرائی پر بھی سوشل میڈیا کے وی لاگرز کو بلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں اپوزیشن کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے، وزیراعظم کے پاس اپوزیشن کے پیچھے بیرونی طاقتوں کی معلومات ہیں تو نام قوم کو بتائیں، اگر وزیراعظم کے پاس اپوزیشن پر الزامات لگانے کے ثبوت نہیں تو وہ جھوٹے ہیں، وزیراعظم نے فارن فنڈنگ کیس سے اپنا پورا چہرا داغدار کر رکھا ہے۔

ممبر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ اسپیکر غیرجانبدار ہوتا ہے لیکن اسپیکر ٹوئٹ کرتے ہیں کہ آئی اسٹیند ود عمران خان، اسپیکر قومی اسمبلی اگر جانبدار ہے تو اپنی کرسی سے اتر کر اسے نیچے بیٹھنا چاہیے۔

احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی عدم اعتماد کو ٹائی ٹائی فش کہنے والے کیوں اسمبلی اجلاس نہیں بلاتے، قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر بھی بغاوت ہو چکی ہے، وزیراعظم عمران خان 22 کروڑ عوام کی نظر میں ایک گالی بن چکے ہیں، حکومتی اتحادی جماعتیں نہیں چاہتیں کہ عمران خان کے حصے کی گالیاں خود کھائیں۔