Official Website

اسرائیلی صدر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکی پہنچ گئے

50

انقرہ: اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوک ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کے لیے انقرہ پہنچ گئے۔

عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کا ترک دورہ یوکرین پر روسی حملے سے چند ہفتے قبل طے ہوا تھا۔ یہودی ریاست اور اکثریتی مسلم ملک ترکی، جو فلسطینی کاز کا حامی ہے، کے درمیان ایک دہائی سے زیادہ سفارتی تعلقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے۔

کسی بھی اسرائیلی سربراہ کا 2007 کے بعد ترکی کا یہ پہلا دورہ ہے جس میں دونوں ممالک کشیدہ تعلقات کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہرزوگ نے ​​روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم ہر چیز پر متفق نہیں ہوں گے، اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات یقینی طور پر حالیہ برسوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں تاہم ہم اپنے تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کریں گے اور محتاط انداز میں استوار کریں گے۔

دو روزہ دورے کے ایجنڈے کے اہم مسائل میں ممکنہ طور پر یورپ کو گیس کی فروخت شامل ہو گی جو کہ یوکرین تنازعے کے دوران ایک فوری حل طلب مسئلے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ ترک اسرائیل تعلقات میں اس وقت سردمہری آگئی جب اسرائیل نے 2010 میں ترکی کے ماوی مروارا نامی جہاز پر حملہ کر کے 10 شہریوں کو ہلاک کردیا تھا۔ جہاز غزہ میں امداد لے کر اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کررہا تھا۔