Official Website

سماعت میں کمی اور مرگی، پارکنسن کی ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں

59

لندن: دنیا بھر میں لاتعداد مریضوں پر حملہ کرکے انہیں مفلوج کردینے والے مرض پارکنسن کے ابتدائی علامت کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ سماعت میں خلل اور مرگی جیسی کیفیات اس مرض کی پیش خیمہ ہوسکتی ہیں۔

مشرقی لندن میں مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا تو اس میں یہ رحجان سامنے آیا ہے۔ کوئن میری یونیورسٹی سے وابستہ ایلسٹائر نوئس اور ان کی ٹیم نے برطانیہ بھر میں مختلف نسل اور عمر کے افراد کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔ ان تمام افراد کا ڈیٹا پرائمری کیئر ہسپتالوں سے لیا گیا تھا اور اس کی تفصیلات جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جرنل نیورولوجی میں شائع ہوئی ہیں۔

اایلسٹائر کے مطابق رعشہ اور ہاتھوں میں کپکپاہٹ پارکنسن کی ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں جو پانچ سے دس برس قبل ظاہر ہوتی ہیں۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ لیکن سننے میں خلل اور مرگی کی علامات سے ڈاکٹر بہت پہلے ہی پارکنسن کو بھانپ سکتے ہیں۔
1990 سے 2018 تک لگ بھگ دس ہزار افراد پر تحقیق کی گئی جس میں کل ایک ہزار افراد پارکنسن کے شکار دیکھے گئے۔ اس مطالعے مین 55 فیصد سیاہ فام انگریز اور 45 فیصد سیاہ فام، ایشیائی اور دیگر اقوام یا ممالک سے وابستہ تھے۔ ماہرین نے کل 24 علامات پر غور کیا جن میں سماعت میں کمی اور مرگی کو بھی شامل کیا گیا ۔

توقع کے تحت ماہرین نے پارکنسن کے شکار ہونے والے گروپ میں قبض، تھکاوٹ، نیند کی کمی، غنودگی، کندھوں کی تکلیف، جھٹکے، ہاتھوں کی لرزش اور دماغی صلاحیت میں کمی نوٹ کی تھی۔

ان میں سماعت کا متاثر ہونا اور مرگی کو بھی اہم عوامل گردانا گیا۔ تاہم ماہرین نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔