Official Website

میٹاورس کیلیے قدیم جانوروں کے تھری ڈی ’ورچوئل ماڈلز‘ تیار

44

کیلیفورنیا: امریکی ڈیجیٹل مصوروں اور ماہرین نے دیوقامت ہاتھی جیسے میمتھ، لمبے دانتوں والے ٹائیگر اور عجیب الخلقت سلیوتھ سمیت درجن بھر سے زائد قدیم و معدوم جانوروں کی تھری ڈی تصویریں تیار کرلی ہیں جنہیں میٹاورس کے ماحول میں بھی استعمال کیا جاسکے گا۔

یہ جانور آج سے ہزاروں سال پہلے برفانی عہد میں پائے جاتے تھے جن کی پینٹنگز اور ڈھانچے مختلف عجائب گھروں میں رکھے ہیں۔

اگرچہ ان کی ڈیجیٹل تھری ڈی تصاویر اور اینی میشنز کی بھی بڑی تعداد ہے مگر ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو سائنسی لحاظ سے ان جانوروں کی درست تصویر پیش کرسکے۔

یہ کمی پوری کرنے کےلیے نیچرل ہسٹری میوزیم آف لاس اینجلس کاؤنٹی، لا بریا ٹار پٹس اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے ڈیجیٹل مصوروں اور سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کام شروع کیا۔

فی الحال ان کی تعداد 15 ہے جبکہ ان تمام جانوروں کا تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈل اپنی ظاہری شکل کے علاوہ اندرونی ڈیجیٹل وائر فریم پر بھی مشتمل ہے جو اصل جانوروں کے حقیقی ڈھانچے کی عین مطابقت میں بنایا گیا ہے۔

تھری ڈی ہونے کے باوجود، جانوروں کے یہ تمام ماڈلز اپنے بائٹ سائز میں بہت ہلکے پھلکے ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر تھری ڈی اسٹیکرز کے طور پر بھی آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ورچوئل رئیلیٹی (وی آر) اور آگمینٹڈ رئیلیٹی (اے آر) کے علاوہ، یہ تھری ڈی ماڈلز بہت آسانی سے میٹاورس کا حصہ بھی بنائے جاسکتے ہیں جبکہ انہیں استعمال کرتے ہوئے کوئی اے آر گیم بھی بہ آسانی تیار کیا جاسکتا ہے۔

بتاتے چلیں کہ قدیم جانوروں کے ڈھانچے اور رکازات دیکھ کر ان کی حقیقت سے قریب تصویر بنانا بھی ایک باقاعدہ سائنسی فن ہے جسے ’’پیلیو آرٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس منصوبے میں بطورِ خاص پیلیو آرٹسٹس کا کام بہت رہا اہم ہے کیونکہ انہوں سائنسی ماہرین کی فراہم کردہ تفصیلات اور پیمائشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان معدوم جانوروں کے ایسے تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈل تیار کیے ہیں جو سائنسی لحاظ سے بالکل درست ہیں۔

نیچرل ہسٹری میوزیم آف لاس اینجلس کاؤنٹی نے اس بارے میں ایک تفصیلی پریس ریلیز بھی جاری کی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ ماڈلز سنیپ چیٹ اور انسٹاگرام پر آگمینٹڈ رئیلیٹی ایفیکٹ کے طور پر بھی پیش کیے جاچکے ہیں۔

اسی پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سنیپ چیٹ اور انسٹاگرام، دونوں میں ان اے آر/ وی آر ایفیکٹس تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ، آن لائن ریسرچ جرنل ’’پیلیونٹولوجیا الیکٹرونیکا‘‘ کے تازہ شمارے میں بھی اس حوالے سے ایک بھرپور تحقیقی مضمون شائع ہوچکا ہے۔