Official Website

امیج اومکس: تصویروں میں پوشیدہ معلومات ڈھونڈنے کی نئی سائنس

30

ورجینیا: کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت اور مشینی اکتساب (مشین لرننگ) جیسے شعبوں میں غیرمعمولی ترقی کی بدولت حال ہی میں سائنس کی ایک نئی شاخ وجود میں آئی ہے جسے ’امیج اومکس‘ یا ’امیجیومکس‘ (imageomics) کا نام دیا گیا ہے۔

امیج اومکس/ امیجیومکس وہ علم ہے جس میں ’’مصنوعی ذہانت اور مشینی اکتساب کے مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے جانداروں کی تصویروں کا تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ ان کی منفرد ظاہری شکل و صورت (ساخت) کے علاوہ طرزِ عمل اور فطری کردار سے متعلق انفرادی و اجتماعی خصوصیات کے بارے پتا لگایا جاسکے۔‘‘

گزشتہ چند ماہ میں امریکا کے مختلف اداروں کو کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ دی گئی ہے تاکہ وہ امیج اومکس کو ترقی دیں اور مزید پختہ کرکے اس قابل بنائیں کہ یہ جانوروں پر تحقیق میں عملی طور پر استعمال ہوسکے۔
گزشتہ برس ستمبر میں امریکا کی ’نیشنل سائنس فاؤنڈیشن‘ (این ایس ایف) کی 15 ملین (ڈیڑھ کروڑ) ڈالر گرانٹ سے اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی میں ایک نئے ’امیج اومکس انسٹی ٹیوٹ‘ کا آغاز کیا گیا۔

اسی گرانٹ کے تحت چند روز قبل ورجینیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ورجینیا ٹیک) سے کمپیوٹر سائنس، شماریات اور حیاتیاتی علوم (بایولاجیکل سائنسز) کے شعبوں سے بھی ماہرین کو شامل کرلیا گیا ہے۔

اس وقت دنیا بھر کے لاکھوں جانوروں کی کروڑوں تصویریں موجود ہیں جو سائنسی ماہرین، ماحول/ جنگلی حیات سے دلچسپی رکھنے والے عام لوگوں اور سیاحوں کی کھینچی ہوئی ہیں۔

ڈیجیٹل فوٹوگرافی اور سوشل میڈیا میں غیرمعمولی ترقی کے باعث، آج ان میں سے بیشتر تصویریں اور ویڈیوز خاصی صاف ستھری ہیں جنہیں یکجا کرکے سائنسی تحقیق میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امیج اومکس/ امیجیومکس کا مقصد بھی یہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی مدد سے، خودکار انداز میں تصویریں شناخت کرنے والے موجودہ کمپیوٹر پروگرامز اور الگورتھمز اس قابل نہیں کہ وہ جانوروں کی ان تصویروں سے بامعنی اور مفید معلومات، درست طور پر اخذ کرسکیں۔ اس کےلیے انہیں خصوصی تربیت دینا ہوگی۔

امیج اومکس/ امیجیومکس پر تحقیق میں ماہرین یہی کام کریں گے۔

امید ہے کہ ان کوششوں کے طفیل، آئندہ چند میں یہ شعبہ بھی خاصی ترقی کرجائے گا اور ہم اس قابل ہوجائیں گے کہ مشین لرننگ کو دریافت شدہ جانوروں کی شناخت کے علاوہ نئی اور نامعلوم انواع (species) کی نشاندہی، شناخت اور دریافت میں استعمال کرسکیں۔