Official Website

ویڈیو گیم کھیلنے سے مطالعہ کرنے میں مدد ملتی ہے، تحقیق

31

مونٹانا: طبی ماہرین نے حالیہ تحقیق میں کہا ہے کہ ویڈیو گیم کھیلنے سے مطالعے کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

یہ تحقیق کینیڈا میں یونیورسٹی آف سسکواچن نے کی ہے۔ تحقیق کے مطابق کینیڈا میں دو کروڑ سے زائد افراد باقاعدہ ویڈیو گیم کھیلتے ہیں۔ دوسری جانب 6 سے 17 برس کے بچوں کی 80 فیصد سے زائد تعداد بھی ویڈیو گیم کھیلتی ہیں لیکن اس کا دورانیہ کم ہوسکتا ہے۔ بالخصوص لاک ڈاؤن میں اس کی شرح بڑھی ہے۔

جامعہ سسکواچن میں کے رون بوروسکی اور ان کے ساتھیوں نے ایک جانب تو پہلے سے کیے گئے کئی مطالعات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ دوسری جانب انہوں نے ویڈیو گیم باقاعدہ کھیلنے اور نہ کھیلنے والے رضاکاروں کو کمپیوٹر اسکرین پر توجہ اور ارتکاز کے ایک ٹیسٹ سے گزارا۔
سائنسدانوں نے اس ٹیسٹ کو کچھ اس طرح ڈیزائن کیا تھا کہ دیکھنے والے کو چوکنا ہوکر اسکرین پر نظر جمانا پڑتی تھی۔ یعنی کبھی اسکرین کے اوپر، کبھی نیچے، کبھی درمیان میں مختلف مانوس اور غیرمانوس الفاظ نمودار ہوئے جنہیں پڑھنا تھا۔ اس طرح الفاظ اسکرین پر 8 جگہوں پر ظاہر ہوئے۔ رضاکاروں سے کہا گیا کہ وہ انہیں پڑھ کر سنائے۔

ظاہر ہوا کہ ویڈیو گیم کا عمل پیرفرل بصارت اور ارتکاز کو مضبوط کرتا ہے۔ اب گیم کھیلنے والے افراد نے اس ٹیسٹ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ویڈیو گیمز میں تیزی سے بدلتے ہوئے مناظر اور چیلنج گیم کھیلنے والوں کی فوری توجہ چاہتے ہیں اور وہ اس کی مشق سے عادی ہوجاتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ گیمرز مسلسل اپنی نظریں گھماتے رہتے ہیں اور ہر گوشے پر توجہ کرتے ہیں ۔ بار بار کی مشق توجہ کو بڑھاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تحقیق کی غیرمعمولی اہمیت ہے کیونکہ مخصوص گیم بناکر طلبا و طالبات اور دیگر افراد میں مطالعے کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔