Official Website

بنتے ہوئے سیارے پر زندگی کے دو اہم مالیکیولز دریافت

38

چلی: یورپی ماہرینِ فلکیات نے تشکیل کے مرحلے سے گزرتے ہوئے ایک سیارے کے گرد ایسے دو اہم سالمات (مالیکیولز) دریافت کرلیے ہیں جو زندگی کی تخلیق سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

یہ سالمات ڈائی میتھائل ایتھر اور میتھائل فارمیٹ ہیں جن میں بالترتیب 9 اور 8 ایٹم ہوتے ہیں۔

اگرچہ اب تک یہ دونوں سالمات مختلف ستاروں اور گرد و غبار کے وسیع و عریض خلائی بادلوں میں دیکھے جاچکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جب انہیں کسی ایسے سیارے پر دریافت کیا گیا ہے جو ابھی بننے کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور فی الحال ایک چپٹی پلیٹ (ڈِسک) جیسی شکل میں ہے۔

ڈائی میتھائل ایتھر کا کیمیائی فارمولا CH3OCH3 ہے، یعنی اس میں ہائیڈروجن کے 6، کاربن کے 2 اور آکسیجن کا 1 ایٹم موجود ہیں۔ گویا اس میں کُل 9 ایٹم ہیں۔

میتھائل فارمیٹ کا کیمیائی فارمولا CH3OCHO ظاہر کرتا ہے کہ اس میں ہائیڈروجن کے 4، کاربن کے 2، اور آکسیجن کے بھی 2 ایٹم ہیں۔ اس طرح یہ 8 ایٹموں والا سالمہ ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دوسرے سیاروں کی طرح ہماری زمین بھی تقریباً 4.5 ارب سال پہلے ایک چپٹی پلیٹ (ڈِسک) جیسی شکل کی تھی جس میں مختلف گیسوں اور گرد و غبار کے علاوہ ایسے سالمات (مالیکیولز) بھی موجود تھے جنہوں نے زمین کی تشکیل مکمل ہوجانے کے بعد یہاں زندگی کی ابتداء میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔

ڈائی میتھائل ایتھر اور میتھائل فارمیٹ بھی ایسے ہی دو مالیکیولز ہیں جو شکر کے علاوہ، زندگی کی بنیاد بننے والے کئی دوسرے سالموں کی تشکیل میں تعمیراتی اینٹوں کا کام کرسکتے ہیں۔

انہیں ’’آئی آر ایس 48‘‘ نامی ستارے کے گرد بنتے ہوئے سیارے کی پلیٹ (پلینٹ فارمنگ ڈِسک) میں دریافت کیا گیا ہے۔ یہ ستارہ ہم سے 444 نوری سال دوری پر ’’حامل الحیہ‘‘ (اوفیوکس) نامی جھرمٹ میں واقع ہے۔

اگلے کروڑوں سال میں یہ پلیٹ بتدریج سمٹتے ہوئے ایک گولے میں تبدیل ہوگی اور، ٹھنڈی ہوتے ہوئے، بالآخر ہماری زمین جیسے سیارے کی شکل اختیار کرلے گی۔

’’آئی آر ایس 48‘‘ کے گرد بنتے ہوئے سیاروں میں زندگی سے متعلق یہ دو اہم مالیکیولز ہالینڈ اور جرمنی کے ماہرین نے چلی میں واقع ’’اٹاکا لارج ملی میٹر سب ملی میٹر ایرے‘‘ (ALMA) کہلانے والی ریڈیو دوربینوں کی مدد سے دریافت کیے ہیں۔

کئی مہینوں کے محتاط اور تفصیلی مشاہدات و تجزیئے کے بعد یہ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ ’’آئی آر ایس 48‘‘ سے آنے والی ریڈیو لہروں میں ڈائی میتھائل ایتھر اور میتھائل فارمیٹ کی واضح علامات موجود ہیں۔

البتہ ان میں سے بھی ڈائی میتھائل ایتھر کی مقدار خاصی زیادہ دیکھی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین جیسا کوئی سیارہ اپنی تشکیل سے گزرتے دوران زندگی کو وجود بخشنے کےلیے بھی آہستگی سے تیار ہورہا ہوتا ہے۔

اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’ایسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے جس کی ایک نقل ’’یورپین سدرن آبزرویٹری‘‘ کی ویب سائٹ پر دیکھی جاسکتی ہے۔