Official Website

چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو کھول دیا گیا

35

واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے 50 سال قبل چاند سے زمین پر لائے گئے پتھروں کے آخری مجموعے کو آج قریباً 50 برس بعد کھول دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چاند سے اب تک زمین پر 2196 چھوٹے بڑے پتھر لائے گئے تھے جن میں سے چند کا مطالعہ اب بھی باقی تھا۔

واضح رہے کہ زمین پر لانے کے بعد فوراً انہیں ایک مکمل طور پر مہربند نلکیوں نما پیکنگ میں رکھا گیا تھا۔

غیرملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 73001 نامی یہ زیر تحقیق نمونہ خلانوردوں، یوجین سرنن اور ہیریسن شمٹ نے دسمبر 1972 میں اپالو 17 مشن کے دوران جمع کیا تھا، جو اس پروگرام کا آخری نمونہ تھا۔

ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے اپولو مشنز کے ذریعے زمین پر کُل 2,196 چٹانوں کے نمونے لائے گئے ہیں جس میں سے ایک نمونے کو اب کھولنا شروع کیا گیا ہے، جو آج سے 50 سال قبل اکٹھا کیا گیا ہے، ایہ پتھر 35 سیںٹی میٹر لمبی اور 4 سینٹی میٹر چوڑی ٹیوب میں رکھا گیا تھا۔ یہ پتھر چاند کی مشہور وادی ٹارس لیٹرو سے اٹھایا گیا تھا۔

آثار، معدومیات اور چاند کے پتھروں کی تحقیق میں یہ چلن عام ہے کہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق سے گزارا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں جدت کی بدولت عشروں قبل حقائق کےمقابلے میں قدرے تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس پتھر کے مطالعے میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔

NASA-1

ماہرین کی جانب سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ 73001 نامی جس نمونے کو کھولا جارہا ہے اس میں طیران پذیر مادے ار گیس یعنی

کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی وغیرہ ہوسکتے ہیں۔

NASA-2

واضح رہے کہ آرتیمس چاند پر ناسا کا اگلا مشن ہے جبکہ ایجنسی 2025 تک چاند پر انسان بردار سواریاں بھیجنا چاہتی ہیں۔ اس ضمن میں آرتیمس اول نامی خلائی جہاز اسی سال روانہ کیا جائے گا۔ دیرینہ مطالبے کے بعد اب کانگریس نے اس منصوبے کے لیے رقم بھی جاری کردی ہے۔