Official Website

یوکرین اور روس امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے پُرامید

51

کیف: روس اور یوکرین نے تین ہفتوں سے جاری جنگ کے دوران امن مذاکرات کی کامیابی کی امید کا اظہار کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس اور یوکرین نے امن مذاکرات میں سمجھوتہ طے پانے کی امید کا اظہار کیا ہے۔ امن مذاکرات کے تین ادوار میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہونے کے بعد پہلی بار فریقین نے مثبت پیشرفت کا عندیہ ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ مذاکرات “زیادہ حقیقت پسندانہ” ہوتے جا رہے ہیں جب کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ “کمپرومائز‘‘ کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ فریقین یوکرین کے لیے آسٹریا یا سویڈن جیسی حیثیت پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں یعنی ایسے یورپی یونین کے رکن ممالک جو نیٹو فوجی اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔

اسی طرح ولادیمیر زیلنسکی نے سمجھوتہ کے لیے ممکنہ راستے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین نیٹو اتحاد میں عدم شمولیت اور جنگ بندی پر عالمی سلامتی کی ضمانتوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

خیال رہے کہ روس کے یوکرین حملہ آور ہونے کی ایک وجہ اسے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے سے روکنا تھا اور صدر پوٹن کو امید تھی کہ وہ جنگ میں جلد کامیابی حاصل کرلیں گے لیکن اب تک کسی بڑے شہر میں مکمل قبضہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

جس پر مغربی ممالک اور یوکرائنی حکام نے جنگ کی توقع سے زیادہ جلد ختم ہونے کے امکان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ ایک دو ہفتوں میں ختم ہوجائے گی کیوں کہ روس کو خاطر خواہ کامیابیاں نہیں مل سکی ہیں۔