Official Website

عبوری انتظامیہ کا اختیارات سے تجاوز،لوک ورثہ تباہی کے دہانے پر، اہم منصوبے کھڈے لائن لگ گئے

245

بند کئے گئے منصوبوں میں قومی مفاد کے حوالے اہم میگزین بھی شامل،نکتہ نامی میگزین اشاعت کیلئے تیار تھا، اس حوالے سے اٹھانوے فیصد کام مکمل تھا

اچانک منصوبہ بند کر دیاگیا، چیف ایڈیٹرامدا دحسین،جو پروجیکٹ لوک ورثہ کے مفاد میں نہیں ہونگے انہیں کوئی بھی ای ڈی روکنے کا حق رکھتا ہے،انچارج ایڈمن فرزانہ


شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com

قومی ادارہ برائے لوک اور روایتی ثقافتی ورثہ (لوک ورثہ) کی عبوری انتظامیہ نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے لوک ورثہ کے بنیادی مقاصد و قومی مفاد کے حوالے سے اہم میگزین پراجیکٹ سمیت کئی ضروری منصوبوں کو تہس نہس کر دیا ہے۔ بند کئے گئے منصوبوں میں قومی مفاد کے حوالے اہم میگزین بھی شامل ہے، نکتہ نامی یہ اردو میگزین جس کا مقصد پاکستان کے تمام صوبوں کے کلچر کو نمایاں کرنا تھا پر کام مکمل ہو چکا تھا اور اشاعت کیلئے تیار بھی تھا کو بغیر کسی جواز کے بند کیا گیا۔ حالانکہ اردو میگزین کے ساتھ ساتھ انگلش زبان میں بھی میگزین کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا اور اس حوالے سے بھی پچاس فیصد کام مکمل کرلیا گیا تھا۔ میگزین کی اشاعت کا مقصد پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ غیرملکی سیاحوں کو پاکستان کی ثقافت و روایات سے آگاہی دینا ،پاکستان کے مختلف علاقوں کی رسومات ،وہاں کے ثقافتی رنگوں کو ایک میگزین کے اندر سمو کر روایات کی آگاہی کو تقویت دینا تھا۔میگزین کے عملے کے مطابق لوک ورثہ کے بنیادی مقصد یعنی روایتی ثقافت کو فروغ دینے کو تقویت دینے کے علاوہ یہ بھی ایک حقیت ہے کہ کلچر ہائبرڈ وارکے حوالے سے بھی اہم ہے اور یہ میگزین پاکستانی ثقافت کو تحفظ دینے، پاکستان کے نرم تشخص اور مثبت رویوں کو فروغ دینے کے لحاظ سے اہمیت رکھتا تھا۔انچارج ایڈمن محترمہ فرزانہ سے اس حوالے سے جب موقف مانگا گیا تو پہلے تو انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پروجیکٹ نہیں روکا گیا،لیکن پھر انہوں نے وضاحت دیتے ہو ئے کہا کہ جو پروجیکٹ لوک ورثہ کے مفاد میں نہیں ہونگے اور بجٹ پر اضافی بوجھ ہو نگے انہیں کوئی بھی ای ڈی روکنے کا حق رکھتا ہے۔ جہاں تک میگزین کی بندش کی بات ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے وزارت قومی ورثہ اور ثقافت ڈویژن کو کہا تھا کہ وہ کسی کو بھیج کر چیک کرائیں کہ آیا میگزین کا پروجیکٹ لوک ورثہ کے مفاد میں ہے یا نہیں تو وزار ت نے ایک خاتون صحافی کو خاص طور پر بجھوایا تھا اور اس خاتون کی رائے پر ہی ہم نے میگزین کا پروجیکٹ روک دیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ وزارت نے واقعی میگزین کو بند کرنے کیلئے کسی کو بھیجا اور نہ ہی قواعد و ضوابط کے مطابق وزارت اس قسم کے اختیارات کا مجاز ہے۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزارت سے کسی بھی صحافی خاتون کو پراجیکٹ کی مانیٹرنگ کیلئے کبھی بھی نہیں بجھوایا گیا ،ایڈمن انچارج سے جب خاتون صحافی کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے نام یاد نہیں ۔میگزین کے چیف ایڈیٹر امداد حسین سے جب رابطہ کیا گیا اور میگزین کی بندش بارے جب موقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ لوک ورثہ کا بنیادی کام ملکی ثقافت کو اجاگر کرنا ہے اورمیگزین اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ میگزین کے کام کی تکمیل پر میں نے انتظامیہ کو ایک ای میل کی جس میں انہیں بتایا کہ ہماری طرف سے اردو میگزین پر کام مکمل ہو چکا ہے، اور یہ ہماری طرف سے اشاعت/یا آن لائن ایڈیشن کے لیے تیار ہے۔ ” لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ میرے ای میل کا مثبت جواب دینے کے بجائے پراجیکٹ بند کیا گیا اور ٹیم کو فارغ کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے مختلف حصوں سے نامہ نگار ثقافت پر رپورٹنگ کرنے والوں کو ہم نے بہت کم پیسوں کے عوض علاقائی ثقافت کے حوالے سے مضامین لکھنے کی ذمہ داری سونپی تھی لیکن انکو ابھی تک ادئیگی نہیں کی گئی ۔ عبوری انتظامیہ نے لوک ورثہ کے کردار کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہنر مندی کے پروگرام اورکئی پروجیکٹس کو بند کردیا ۔جس سے ایک طرف پاکستانی ثقافت کی ترویج میں رکاوٹ ڈالی گئی دوسری طرف درجن سے زائد ملازمین کو بے روزگار کر دیا گیا ہے ،وفاق کا اہم ادارہ لوک ورثہ جس کا کام پاکستان کی ثقافت و روایات کی ترویج کرنا ہے اس کے اہم منصوبوں کو بنا تحقیق کے اس طرح سے بند کردینا اور ان کے دفاتر کو تالہ لگا دینا ااپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے ،پراجیکٹس کو ختم کرتے ہوئے اس بات کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا ،کہ کچھ پراجیکٹس پر 90فیصد جبکہ کچھ پر 95فیصد کام ہو چکا تھا ،اسی طرح چند پروجیکٹس پر 50فیصد تک کام ہو چکا تھا ،ان پروجیکٹس کی بندش سے نہ صرف مالی وسائل کا ضیاع ہو رہا بلکہ بہت سے افراد کی محنت کو بھی ضائع کیا جا رہا ہے ،اور درجن سے زائد لوگوں کا روزگار بھی چھینا جا رہا ہے ۔جو کہ بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ آئین و قانون کی بھی خلاف ورزی ہے ۔یہ بات اپنی جگہ بہت معنی خیز ہے کہ سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی مدت ملازمت ختم ہو نے کے ساتھ ہی ان کے دور میں شروع کئے گئے پروجیکٹس کو فوری طور پر ختم کر دیا گیا ،اور قائم مقام ای ڈی جنید اخلاق نے چارج سنبھالتے ہی سابق ای ڈی کے دور میں شروع کئے گئے فائدہ مند پروجیکٹس کو نہ صرف روک دیا بلکہ ان کے دور کے ٹیم ممبران کو بھی ملازمتوں سے برخاست کردیا ،اور دفاتر کو تالے لگا دئیے گئے اور یہ سب کچھ اتنی عجلت میں کیا گیا کہ ادارے میں کام کرنے والے تمام افراد حیران رہ گئے ،لوک ورثہ کا ایک اہم پروجیکٹ اردو میگزین کا اجرا تھا جس کا مقصد مگر نئی انتظامیہ نے اس پروجیکٹ کو بنا کسی جواز کے فوری طور پر روک دیا ،اس حوالے سے روزنامہ وائس آف پاکستان کی ٹیم نے قائم مقام ای ڈی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ وہ ملک کے باہر ہیں ۔
لوک ورثہ