Official Website

13سال بعد ٹیسٹ کرکٹ، استقبال کیلیے قذافی اسٹیڈیم نے بانہیں پھیلا دیں

84

لاہور: 13سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کے استقبال کیلیے قذافی اسٹیڈیم نے بانہیں پھیلادیں۔

مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد پہلی بار لاہور میں طویل فارمیٹ کا کوئی میچ کھیلا جائے گا، کینگروز 28برس بعد جلوے بکھیریں گے،دونوں ٹیمیں چارٹرڈ طیارے میں کراچی سے لاہور پہنچ گئیں،سخت حفاظتی حصار میں ہوٹل پہنچایا گیا،کرکٹرز جمعے کو آرام جبکہ ہفتے اور اتوار کو بھرپور پریکٹس سیشنز میں کنڈیشنز سے ہم آہنگی کیلیے کوشاں ہوں گے،وینیو کی صفائی ستھرائی اور تزئین و آرائش کا سلسلہ جاری ہے۔

آئی سی سی کے ہیڈ کیوریٹر ٹوبی لمسڈن کی زیر نگرانی پچز کی تیاری بھی حتمی مراحل میں داخل ہوگئی،اس وینیو پر پاکستان نے مجموعی طور پر 40 میچز میں 12فتوحات حاصل کیں، 6میں شکست ہوئی،22مقابلے ڈرا ہوئے،آسٹریلیا سے 5ٹیسٹ میں 1-1سے پلڑا برابر رہا،3میچز نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔تفصیلات کے مطابق مارچ 2009میں قذافی اسٹیڈیم میں جاری ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے 606رنز کا مجموعہ حاصل کیا۔

جواب میں پاکستان نے ایک وکٹ پر 110رنز بنائے تھے کہ تیسرے روز کا کھیل شروع ہونے سے قبل آئی لینڈرز کی بس پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا، چند مہمان کرکٹرز شدید زخمی ہوئے،اس کے بعد کئی سال تک ملکی میدانوں پر ویرانی چھائی رہی،اب بتدریج کرکٹ کا سلسلہ بحال ہوچکا ہے، لاہور کو بھی انٹرنیشنل میچز کی میزبانی کا موقع مل چکا مگر سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد یہاں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا گیا۔

اب 13سال بعد 21مارچ سے قذافی اسٹیڈیم میں طویل فارمیٹ کا پہلا میچ ہو گا،دوسری جانب کینگروز یہاں 28سال بعد ایکشن میں ہوں گے،پاکستان اور آسٹریلیا کا گذشتہ باہمی مقابلہ 1994میں ہوا تھا،جمعرات کی سہ پہر دونوں ٹیمیں چارٹرڈ طیارے میں لاہور کے علامہ اقبال ایئر پورٹ پہنچیں تو سخت حفاظتی حصار میں ہوٹل لایا گیا،روٹ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینکڑوں اہلکار تعینات تھے،ٹیموں کی روانگی کے وقت مین روٹ کے ساتھ اطراف میں بھی سڑکوں کی کڑی نگرانی ہوئی،کرکٹرز جمعے کو آرام کریں گے،کھلاڑی ہفتے اور اتوار کو بھرپور مشقیں کرتے ہوئے مقامی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کیلیے کوشاں ہوں گے، وینیو اور اطراف میں سڑکوں کی کڑی نگرانی کا سلسلہ ابھی سے جاری ہے۔

اسٹینڈز کی صفائی ستھرائی اور اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش بھی ہو رہی ہے، آئی سی سی کے ہیڈ کیوریٹر ٹوبی لمسڈن کی زیر نگرانی میچ اور پریکٹس پچز کی تیاری کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے، ماضی میں قذافی اسٹیڈیم کی پچز فاسٹ بولرز اور اسپنرز کیلیے یکساں سازگار رہی ہیں، اچھی تکنیک کا مظاہرہ کرنے والے بیٹرز بھی بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یہاں پاکستان کا مجموعی ریکارڈ تو قدرے بہتر ہے مگر آسٹریلیا کیخلاف میچز میں پلڑا برابر رہا،گرین کیپس نے 40ٹیسٹ میں 12فتوحات حاصل کیں،6میں مات ہوئی،22میچز ڈرا ہوئے، پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین یہاں 5میچز کھیلے گئے،دونوں ٹیموں نے ایک ایک فتح پائی،3 میچز ڈرا ہوئے، 1959میں قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے اولین باہمی ٹیسٹ میں مہمان کینگروز 7 وکٹ سے سرخرو ہوئے تھے،1980میں کھیلا جانے والا دوسرا میچ ڈرا ہوگیا،اگلا معرکہ 1982میں ہوا جس میں پاکستان ٹیم 9وکٹ سے فاتح رہی،1988کا ٹیسٹ بھی ڈرا ہوا،دونوں ٹیمیں قذافی اسٹیڈیم میں آخری بار 1994میں مقابل ہوئیں تو میچ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکا۔

پہلی اننگز میں پاکستان نے معین خان کی ناقابل شکست سنچری،کپتان سلیم ملک اور انضمام الحق کی ففٹیز سے تقویت پاکر 373رنز بنائے تھے،شین وارن6اور ٹم مے 3وکٹیں لے اڑے، جواب میں آسٹریلیا نے مارک وا،مائیکل بیون اور جسٹن لینگر کی نصف سنچریوں کی بدولت 455کا مجموعہ حاصل کرلیا،محسن کمال اور مشتاق احمد نے 4،4شکار کیے،دوسری باری میں پاکستان نے 404رنز بنائے، اس میں سلیم ملک کے 143رنز شامل تھے،گلین میک گرا4اورشین وارن 3وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے۔